اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 659 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 659

659 نبیوں میں سب سے بزرگ اور کامیاب نبی اسوہ انسان کامل شریعت اور ایک نئے تمدن کی بنیاد رکھی، جنگ کا قانون بدل دیا، اور ایک نئی قوم پیدا کی اور ایک نئی طویل العمر سلطنت قائم کر دی ہے۔ان تمام کارناموں کے باوجود وہ امی اور ناخواندہ تھا، وہ کون ؟ محمد بن عبد اللہ قریشی ، عرب اور اسلام کا پیغمبر ، اس پیغمبر نے اپنی عظیم تحریک کی ہر ضرورت کو خود ہی پورا کر دیا۔اور اپنی قوم اور اپنے پیروؤں کے لئے اور اس سلطنت کے لئے جس کو اس نے قائم کیا ،ترقی اور دوام کے اسباب بھی خود مہیا کر دئیے۔(32) 28۔کونسٹن در جبل جارجیو (وزیر خارجہ رومانیہ ) نے اپنی کتاب ”محمد میں رسول اللہ کے انقلاب کو دنیا کا عظیم ترین انقلاب قرار دیتے ہوئے لکھا:۔عربستان میں جو انقلاب حضرت محمد پر با کرنا چاہتے تھے وہ انقلاب فرانس سے کہیں بڑا تھا۔۔۔انقلاب فرانس فرانسیسیوں کے درمیان مساوات پیدا نہ کر سکا مگر پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے انقلاب نے مسلمانوں کے درمیان مساوات قائم کر دی اور ہر قسم کے خاندانی طبقاتی اور مادی امتیازات کو مٹادیا " (33) الله امام الزماں حضرت بانی جماعت احمدیہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی بلندشان بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسانِ کامل کو۔وہ ملائک میں نہیں تھا۔نجوم میں نہیں تھا۔قمر میں نہیں تھا۔آفتاب میں بھی نہیں تھا۔وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔وہ لعل اور یا قوت اور زمرڈ اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا۔صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ سید الانبیاء سید الاحیاء محمد مصطفی یہ ہیں۔“ (34) جید میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے ( ہزار ہزار درود اور سلام اُس پر ) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔اس کے عالی مقام کا انتہاء معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔اُس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اسکو تمام انبیاء اور تما اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اُس کی زندگی میں اُس کو دیں۔وہی ہے جو سر چشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے۔وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے۔جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے۔“ (35) جلد وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گذرا کہ لاکھوں مردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں یک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچادیا اور وہ