اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 660 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 660

660 نبیوں میں سب سے بزرگ اور کامیاب نبی اسوہ انسان کامل عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس امی بے کس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔اللَّهُمَّ صَلَّ وَسَلَّمْ وَبَارِكُ عَلَيْهِ وَالِهِ بِعَدَدِ هَمِّهِ وَغَمِّهِ وَ حُزُنِهِ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ وَاَنْزِلُ عَلَيْهِ أَنْوَارَ رَحْمَتِكَ إِلَى الْأَبَدِ۔“ (36) حمد "ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جوان مرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں۔یعنی وہی نبیوں کا سردار رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمدمصطفی واحد مجتبی ہی ہے ہے۔جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزار برس تک نہیں مل سکتی تھی۔(37) میر امذ ہب یہ ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کو الگ کیا جاتا اور کل نبی جو اس وقت تک گذر چکے تھے۔سب کے سیب اکٹھے ہوکر وہ کام اور وہ اصلاح کرنا چاہتے۔جو رسول اللہ ﷺ نے کی ہرگز نہ کر سکتے۔ان میں وہ دل اور وہ قوت نہ تھی جو ہمارے نبی کو لی تھی ہمارے نبی کریم ﷺ نے وہ کام کیا ہے، جو نہ الگ الگ اور نہ مل جل کر کسی سے ہو سکتا تھا اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ (38) جید وہ انسان جس نے اپنی ذات سے اپنی صفات سے اپنے افعال سے اپنے اعمال سے اور اپنے روحانی اور پاک قومی کے پر زور دریا سے کمال تام کا نمونہ علماً وعملاً وصدقاً وثباتا دکھلایا اور انسان کامل کہلایا۔وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا۔وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیا ء امام الاصفیاء ختم المرسلين فخر النهبین جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اے پیارے خدا اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔“ (39)۔۔حسینانِ عالم ہوئے شرمگیں پھر اُس پر وہ اخلاق اکمل تریں ز ہے خُلق کامل ز ہے حسنِ تام جو دیکھا وہ حسن اور وہ نور جبیں کہ دشمن بھی کہنے لگے آفرین عَلَيْكَ الصَّلَوةُ عَلَيْكَ السَّلام يَارَبِّ صَلِّ عَلَى نَبِيِّكَ دَائِمًا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا وَبَعْثٍ ثَانِي اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِک عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيد