اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 658 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 658

658 نبیوں میں سب سے بزرگ اور کامیاب نبی اسوہ انسان کامل ہو۔آنحضرت کے ذہن مبارک میں ایک بچے مسلمان کو جو تصور تھا وہ خوب واضح ہو جاتا ہے نبی کریم نے مندرجہ ذیل جامعیت کے ساتھ مسلمان کی زندگی کا دستورالعمل پیش کر دیا ہے۔تمام لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کرو جیسا تم چاہتے ہو کہ وہ تمھارے ساتھ سلوک کریں۔جو چیز اپنے لئے پسند نہیں کرتے دوسروں کیلئے بھی پسند نہ کرو۔“ یہ انوکھی بات نہیں کہ یہودیوں نے اسلامی ممالک میں قیام پذیر ہونے کو عیسائیوں کے زیر سایہ سکونت پذیر ہونے پر ترجیح دی۔ایک دن رسول اکرم کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا اور جب آنحضرت کو بتلایا گیا کہ یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے تو آنحضرت نے ارشاد فرمایا کہ ”کیا وہ ذی روح انسان نہ تھا جو ہمارے لئے عبرت آموز نہیں ہوسکتا۔یہودی بھی ایسا ہی ذی روح انسان ہے جیسے خدا کا کوئی اور بندہ ہو سکتا ہے۔لیکن مسیحی یورپ نے تو کمال شدت کے ساتھ اس حقیقت کو پس پشت ڈال دیا ہے۔“ (29) 25۔مہاتما گاندھی جی مہاراج ( 1914ء) ہندولیڈ ر کا آنحضور کے بارے میں تحقیق کا لب لباب یوں ہے کہ سیرت النبی کے مطالعہ سے میرے اس عقیدہ میں مزید پختگی اور استحکام آگیا کہ اسلام نے تلوار کے بل پر کائنات انسانیت میں رسوخ حاصل نہیں کیا۔بلکہ پیغمبر کی انتہائی سادگی ، انتہائی بے نفسی ہعہو دو مواشیق کا انتہائی احترام۔اپنے رفقاء ومتبعین کے ساتھ گہری وابستگی جرات۔بے خوفی اللہ تعالیٰ پر کامل بھر دستہ اور اپنے مقصد ونصب العین کی حقانیت پر کامل اعتمادا سلام کی کامیابی کے حقیقی اسباب تھے۔“ (30) 26 مشہور آریہ مصنف پر کاش دیوی (1907ء) لکھتے ہیں:۔فی الواقع آنحضرت کی ذات سے جو جو فیض دنیا کو پہنچے اُن کے لئے نہ صرف عرب بلکہ تمام دنیا کو اُن کا شکر گذار ہونا مناسب ہے۔کون کونسی تکلیفیں ہیں جو اس بزرگ نے نسل انسان کے لئے اپنے اوپر برداشت نہیں کیں اور کیا کیا مصیبتیں ہیں جو اُن کو اس راہ میں اُٹھانی نہیں پڑیں۔عرب جیسے ایک وحشی اور کندہ نا تراش ملک کو تو حید کی راہ دکھانا اور اُن بدیوں سے روکنا جو عادت میں داخل ہوگئی تھیں کچھ سہل کام نہ تھا۔تنگ دل اور متعصب لوگ ایسے بزرگ کی نسبت کچھ ہی کہیں لیکن جو لوگ انصاف پسند اور کشادہ دل ہیں وہ کبھی محمد صاحب کی ان بے بہا خدمات کو جو وہ نسل انسان کے لئے بجالائے بُھلا کر احسان فراموش نہیں ہو سکتے وہ اپنی فضیلت کا ایسا جھنڈا کھڑا کر گئے ہیں جس کے نیچے اب تیرہ چودہ کروڑ دنیا کے آدمی پناہ گزین ہیں اور اُن کے نام پر جان دینے کے لئے مستعد کھڑے ہیں۔‘ (31) 27۔بیروت کے مسیحی اخبار الوطن نے 1911ء میں لاکھوں عرب عیسائیوں کے سامنے یہ سوال پیش کیا تھا کہ دنیا کا سب سے بڑا انسان کون ہے؟ اس کے جواب میں ایک عیسائی عالم داور مجاعص نے لکھا:۔دنیا کا سب۔سب سے بڑا انسان وہ ہے جس نے دس برس کے مختصر زمانہ میں ایک نئے مذہب ایک نئے فلسفہ، ایک نئی