اسوہء انسانِ کامل — Page 613
اسوہ انسان کامل 613 آنحضرت ﷺ کی خدادادفر است و بصیرت دیا کرو۔باوجود یکہ آپ افضل الانبیاء تھے مگر قیام امن کی خاطر آپ نے اپنی ذات کی قربانی دینے سے بھی گریز نہ کیا۔( بخاری )24 معاہد یہود کے زندہ لوگوں کا احترام تو الگ رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مردوں اور جنازوں کا بھی احترام کیا ایک دفعہ آپ کسی یہودی کا جنازہ آتے دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔صحابہ نے عرض کیا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ ہے فرمایا کیا وہ انسان نہیں تھا۔( بخاری ) 25 دوسری طرف مختلف مواقع پر نبی کریم اور مسلمانوں کے خلاف یہود کی طرف سے مختلف اسباب جنگ پیدا ہوئے۔مگر آپ میشه درگز رفرماتے رہے مگر ان کی مسلسل عہد شکنی ، غداری اور قاتلانہ منصوبوں کے نتیجہ میں بالآخران کومدینہ بدر کرنا پڑا۔لیکن رسول اللہ ﷺ پر کبھی کسی یہودی کو عہد شکنی کا الزام تک لگانے کی جرأت نہ ہوئی۔حقوق انسانی کے اس علمبر دار اور قیام امن کے ضامن حضرت محمد کی تعریف کرتے ہوئے مسٹر آر۔اے۔نکلسن رقم طراز ہیں۔یہ دستوری دستاویز آپ کی عظیم سیاسی بصیرت کی عکاس ہے کیوں کہ اس کے تحت اس مثالی امت کا وجود عمل میں آیا جس کے لئے آپ نے جدو جہد کی تھی۔اور جو مذہبی مظہر کی حامل تھی اور اس کی تشکیل عملی بصیرت کی بناء پر کی گئی تھی۔(اس ریاست میں دستور کے تحت اعلی ترین اقتدار اللہ تعالیٰ اورمحمدحیہ کا تھا جن کے سامنے امت کے تمام اہم معاملے پیش کئے جاتے تھے تاہم امت میں یہودی اور غیر مسلم بھی شامل تھے“۔ماحول مدینہ میں معاہدات میثاق مدینہ کے نتیجہ میں داخلی امور سے اطمینان کے بعد رسول اللہ نے مدینہ کے نواحی قبائل کی طرف توجہ فرمائی۔سب سے پہلے آپ نے ان علاقوں کے قبائل سے روابط استوار کئے جہاں سے قریش مکہ کے تجارتی قافلے گزر کر عراق شام یا مصر جاتے تھے۔ان قبائل کے ساتھ آپ نے بیرونی حملہ کے خلاف ایک دوسرے کی امداد کے معاہدے کرنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے باخبر رہنے کے لئے ان علاقوں میں اسلامی دستوں کی آزادانہ گشت کی راہ ہموار ہوگئی۔جبکہ کفار کو یہ سہولت میسر نہ تھی۔ان میں خاص طور پر جبینہ ، مزینہ اور غفار کے قبائل خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔یہ قبائل مدینہ کے جنوب مغرب میں ساحل سمندر کے قریب آباد تھے اور ان کے لئے مدینہ ایک تجارتی منڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔اس لئے اس معاہدہ کے سوا ان کے پاس اور کوئی متبادل راہ نہ تھی۔غفار قبیلہ کے ابوذر غفاری مکی دور میں ہی مسلمان ہو چکے تھے۔ہجرت مدینہ کے بعد ان کا نصف قبیلہ مسلمان ہو گیا۔( مسلم ) 26 مدینہ آنے کے معا بعد ایک بڑے قبیلہ جہینہ سے روابط ہوئے جب عقبہ بن عامر جہنی کی سربراہی میں ایک وفد نے مدینہ آکر اسلام قبول کیا۔رسول اللہ نے جہینہ کی ذیلی شاخوں بنوزرعہ، بنور بعد کے ساتھ تحریری معاہدہ کیا کہ مسلمانوں کی طرف سے ان کے مال و جان محفوظ ہو گئے اور ان پر ظلم یا جنگ کرنے والے کے مقابل پر مسلمان ان کی مدد کریں گے۔اسی طرح بنی شیخ اور بنی الجرمز اور بنی الحرقہ سے بھی ایسے ہی معاہدے ہوئے۔( ابن سعد )27