اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 614 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 614

614 آنحضرت ﷺ کی خداداد فر است و بصیرت اسوہ انسان کامل 5 ھ مزینہ قبیلہ کا وفد چارسو افراد کے ساتھ مدینہ آیا۔ہجرت کے اس دور میں نومسلموں کے لئے دیہات کی بجائے مرکز اسلام شہر مدینہ کی برکات اور رسول کریم ﷺ کی محبت سے فیض یاب ہونا زیادہ پرکشش تھا۔یہی خواہش مزینہ قبیلہ کی بھی تھی۔آنحضرت ﷺ نے ان کو مال حکیمانہ انداز میں نصیحت فرمائی کہ تم جہاں بھی ہوئے مہاجر ہویعنی ہجرت کی نیت کا ثواب پاؤ گے لہذا اپنے اموال اور علاقوں میں واپس چلے جاؤ۔اس ارشاد کی تعمیل کے نتیجہ میں مدینہ کے نواح میں مسلمانوں کا ایک اور مضبوط دفاعی مورچہ قائم ہو گیا۔(مسند احمد (28 اسی طرح بنو حنیفہ کے سردار کے اسلام قبول کرنے کے بعد یہ اہم قبیلہ بھی مسلمانوں کا حلیف بن گیا۔شمال میں آباد قبائل کو زیر کرنے کیلئے رسول اللہ نے حسب ضرورت دومتہ الجندل اور موتہ کی طرف مہمات بھیجیں۔والی بصرہ اور شاہ غسان کی طرف قاصد بھیج کر روابط استوار کئے اور شمال میں آباد قبائل فزارہ ، ایلہ اور عذرہ سے الگ معاہدات کئے۔جن قبائل کے مابین کشمکش تھی ان کی مصالحت کروا کے انہیں اپنا حلیف بنایا اور اگر ان کی باہم صلح نہ ہوسکی تو ان میں سے ایک قبیلہ کو حلیف بنا کر اس سے تعلقات استوار کئے۔جیسے مکہ کے نواح میں خزاعہ قبیلہ کی موجودگی مسلمانوں کے لئے انتہائی مفید رہی۔الغرض مدینہ کے گردونواح میں آباد قبائل سے معاہدات کے نتیجہ میں تھوڑے ہی عرصہ میں رسول اللہ نے اپنی حکمت و فراست سے مدینہ کو ایک محفوظ جزیرہ بنا دیا۔قبائل عرب کی مزاج شناسی اور ان سے پُر حکمت رابطے 2 ھ میں عرب کے مختلف اطراف مدینہ میں مختلف قبائل کے وفود کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔رسول اللہ ان قبائل کی زبان میں ان سے گفتگو فرماتے اور ان کے معروف دستور کے مطابق ان سے حسن سلوک فرماتے اور انعام واکرام دے کر رخصت فرماتے۔اکثر ان میں سے اسلام قبول کر کے واپس لوٹتے۔بنو نہد سے ان کے لہجہ میں ایسا فصیح کلام فرمایا که صحابه حیران رہ گئے۔پھر مختلف قبائل اور علاقوں اور افراد کی خصوصیات کے مطابق ان کے حسب حال ایسا معاملہ اور حسن سلوک فر مایا اس سے بھی حضور علیہ کی خداداد فراست و بصیرت کا خوب اندازہ ہوتا ہے۔بے شک آنحضرت ﷺ نے دعوی سے قبل یمن اور شام کے چند تجارتی سفر کئے تھے۔وہ بھی اس وسعت نظر میں ممد معاون ہوئے ہونگے۔مگر جہاں تک آپ کی بصیرت کا تعلق ہے آپ ان قبائل کے مزاج اور خصوصیات سے بھی واقف تھے۔ایک دفعہ آپ نے ایک عرب سردار کے ساتھ مختلف قبائل کے بارہ میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا:۔کہ ”بہترین لوگ یمن کے ہوتے ہیں اور ایمان تو یمنی ہے۔خصوصاً یمن کے قبائل تخم وجذام کے لئے اور حمیر قبیلہ کے عوام ان کے بادشاہوں سے بہتر ہیں۔اور قبیلہ حضر موت بنو حارث سے کہیں بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ نے قبیلہ بنی تمیم پر لعنت کی۔عقیہ قبیلہ وہ ہے جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔خصوصاً اسکی شاخیں عبد قیس، جعدہ وغیرہ۔اور انصار مدینہ کے قبائل اسلم ، غفار، مزینہ اور جہینہ وغیرہ ان کے حلیف قبیلے بنواسہ تمیم اور ہوازن سے قیامت کے دن بہتر ہونگے اور عرب کے بدترین قبائل بحران اور بنو تغلب ہیں اور جنت میں سب قبیلوں سے زیادہ مذحج قبیلہ کے لوگ ہوں گئے“۔( احمد )29