اسوہء انسانِ کامل — Page 612
612 آنحضرت ﷺ کی خداداد فر است و بصیرت اسوہ انسان کامل نہیں کہ یہ منشور کوئی معاہدہ نہیں بلکہ محض ایک اعلان تھا جس کی پابندی تمام اقوام عالم کے لئے ضروری نہیں تھی۔اس لحاظ سے میثاق مدینہ ایک طرف یونائیٹڈ نیشنز کیلئے مشعل راہ ہے تو دوسری طرف مسلمان حکومتوں کے لئے بھی اس میں سبق ہے جو اس قدیم تحریری دستور میثاق مدینہ کی داعی ہونے کے ساتھ یونائیٹڈ نیشنز کے چارٹر کی بھی حامی ہیں۔میثاق اقوام متحدہ Charter of UNO) اور میثاق مدینہ میں یہ فرق نمایاں ہے کہ میثاق مدینہ کے اعلان کے بعد مدینہ کی اسلامی حکومت نے خود بھی دل و جان سے اس پر عمل کی کوشش کی بلکہ تمام معاہدین سے بھی اس پر عمل کروایا جبکہ کئی ممالک میثاق اقوام متحدہ پر دستخط کرنے سے ہی گریزاں رہے۔پھر میثاق مدینہ میں مردوں کی طرح عورت بھی کسی کو پناہ دینے کا برابر حق رکھتی ہے۔جبکہ (امریکہ میں ) انیسویں ترمیم کے منظور ہونے سے قبل عورتوں کو حق رائے دہی تک حاصل نہ تھا۔بلکہ 1824ء سے 1900 ء تک سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق مردوں کو امریکہ میں عورتوں کے زدو کوب کرنے کا قانونی حق حاصل رہا۔اسی طرح امریکی عدالت عالیہ کا فیصلہ تھا کہ چودہویں آئینی ترمیم کے مساوی حقوق والی شق کا اطلاق عورتوں پر نہیں ہوتا اور انہیں مردوں کے برابر حقوق نہیں دیئے جا سکتے“۔(سٹینلے ) 22 پھر میثاق مدینہ کی روشنی میں جب ہم اس کے بانی حضرت محمد ﷺ کی سیرت کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ آپ نے ہمیشہ دوسرے فریق معاہدہ یہود کی عہد شکنی کے باوجود اس معاہدہ کا نہ صرف ایفا ء اور احترام فرمایا بلکہ یہود کے حق میں عادلانہ فیصلے فرمائے۔آپ نے انہیں مکمل مذہبی آزادی عطا کی۔مدینہ میں ان کی مذہبی درس گاہ ، بیت مدراس قائم تھی جس میں ان کے علماء تیار ہوتے تھے اور رسول اللہ وہاں جا کر ان سے مذہبی گفتگو فرماتے تھے۔یہود کے وفد مسجد نبوی میں رسول اللہ کی مجالس میں آکر سوال و جواب کرتے تھے۔یہ پر امن ماحول میثاق مدینہ کا ہی مرہون منت تھا، یہی حال انصاف اور قضائی معاملات کا تھا۔رسول اللہ کے ایک صحابی عبداللہ بن ابی حدر دالا سلمی کے ذمے ایک یہودی کا چار درہم قرض تھا۔اس نے آنحضرت ﷺ سے شکایت کی۔رسول اللہ نے مسلمان کو اس یہودی کا حق ادا کرنے کی ہدایت فرمائی۔عبداللہ نے ادائیگی کی استطاعت نہ ہونے کا عذر کیا۔آج بھی عدالتوں میں ایسے معذور شخص کو مفلس قرار دے کر فارغ کر دیا جاتا ہے۔مگر رسول اللہ کا فیصلہ یہی تھا کہ ایک مسلمان کا دامن یہودی معاہد سے بد عہدی سے داغدار نہیں ہونے دیا جائے گا۔آپ نے فرمایا ”ابھی اس کا حق ادا کرو۔عبداللہ اسی وقت بازار گئے۔انہوں نے سرکا کپڑا اتار کر تہہ بند کی جگہ باندھا اور نہ بند کی چادر چار درہم میں بیچ کر قرض ادا کر دیا۔(احمد )23 ایک دفعہ ایک یہودی نے مدینہ کے بازار میں ایک مسلمان کو سودا بیچتے ہوئے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے موسی کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے۔مسلمان نے طیش میں آکر اس کو تھپڑ رسید کر دیا اور کہا کہ نبی کریم پر موسیٰ کو فضیلت دیتے ہو؟ وہ یہودی رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے ابوالقاسم ! ہم آپ کی امان میں ہیں اور اس مسلمان نے مجھے تھپڑ مار کر زیادتی کی ہے۔نبی کریم مسلمان پر ناراض ہوئے اور فرمایا مجھے نبیوں کے مابین فضیلت نہ