اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 611 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 611

اسوہ انسان کامل 611 آنحضرت ﷺ کی خداداد فر است و بصیرت کے داخلی اور خارجی جملہ امور سے متعلق واضح احکامات صاف ظاہر ہیں۔داخلی لحاظ سے قیام امن ، تنازعات کے فیصلوں کے لئے عدالت کے قیام ، نظام دیت و خون بہا، جنگی اخراجات سے متعلق مالی نظام اور مذہبی آزادی کی واضح تنقیحات اس دستور میں موجود تھیں اور خارجی لحاظ سے بیرونی دشمن کے مقابل پر ریاست مدینہ کے اقوام و قبائل کا اتحاد ایسے اہم امور تھے جن کے بغیر کسی ریاست کا تصور نا مکمل ہے۔مختصر یہ کہ میثاق مدینہ کے بعد نواح مدینہ کے قبائل سے معاہدات کے نتیجہ میں مدینہ ایک مختلف اقوام و مذاہب اور رنگ ونسل کا عالمی شہر ہوتے ہوئے ایک اقلیت کے ذریعہ نا قابل تسخیر بنادیا گیا۔اسی معاہدہ کے نتیجہ میں کمزور مسلمانوں کو مکہ جیسی طاقتور ریاست کے حملہ سے کامیاب دفاع کی طاقت نصیب ہوئی تھی۔اس معاہدے کے جملہ نکات پر پوری طرح عمل پیرا ہوتے ہوئے ہی پہلی اسلامی ریاست مضبوط بنیادوں پر قائم ہوئی پھر یہ ریاست شرق و غرب میں تیزی سے پھیلتی چلی گئی جو انسانیت کی عظمت اور ترقی کی علامت بنی اور اس دنیا کے سامنے صحیح تہذیب و تمدن اور عظیم ثقافت کے درخشاں مظاہرے پیش کئے۔الغرض میثاق مدینہ کا عظیم الشان معاہدہ قیام امن ، انصاف ، مساوات اور مذہبی آزادی کے لئے اپنے مخصوص پس منظر میں رسول اللہ کا ایک ایسا اہم کارنامہ تھا جس کی خصوصیات دور حاضر کے ترقی پذیر معاہدات کے تقابلی مطالعہ پر نمایاں ہو کر سامنے آتی ہیں۔چنانچہ ساری دنیا پر حکومت کرنے والی سلطنت برطانیہ کا 1215ء میں بادشاہ جان (King John) کے ذریعہ ہونے والا میگنا کارٹا (Magna Carta) کا معاہدہ ہو, 1689ء میں جاری ہونے والے بنیادی شہری حقوق کی آئینی دستاویز ( Bill of Rights) یا 1700 ء کا کسانوں اور مزدوروں کے اقتصادی حقوق کا قانون (The Act of Settlement) یا پھر 1911 ء کا ( The Act of Parliament) ان تمام دستاویزات میں شہری حقوق کے جو وعدے بہت بعد میں کئے گئے کئی صدیاں قبل میثاق مدینہ کے ذریعہ وہ حقوق زیادہ بہتر رنگ میں محفوظ کر دیئے گئے تھے۔اسی طرح جدید تہذیب کے علمبر دار ریاستہائے متحدہ امریکہ کا بنیادی آئینی ڈھانچہ Constitutional Convention ہو یا میثاق اقوام متحدہ Charter of United Nations ان کے ساتھ میثاق مدینہ کے تقابلی مطالعہ سے بھی یہی عیاں ہوتا ہے کہ اپنے ماحول، پس منظر اور تمدن کے اعتبار سے میثاق مدینہ کہیں زیادہ شان اور عظمت رکھتا ہے۔مثال کے طور پر میثاق اقوام متحدہ میں 26 جون 1945 ء کو یہ مقاصد بیان کئے گئے تھے کہ ”عالمی سطح پر اقتصادی ، سماجی ، ثقافتی اور انسانی حقوق کے مسائل کو حل کرنے کے لئے بین الاقوامی تعاون کا حصول تا کہ انسانی حقوق کا فروغ و حوصلہ افزائی اور بغیر نسل ، جنس ، زبان یا مذہب کی تجویز کے بنیادی آزادیوں کی فراہمی ممکن ہو سکے اسی طرح دیگر انسانی حقوق مساوات، قیام امن ، آزادی ضمیر کے فروغ اور قیام صحت وغیرہ کا بھی اس چارٹر میں ذکر کیا گیا۔بالآخر 10 دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کے عالمی منشور کے طور پر منظور کیا گیا۔مگر یہ بات کسی سے پوشیدہ