اسوہء انسانِ کامل — Page 610
اسوہ انسان کامل 610 آنحضرت ﷺ کی خداداد فر است و بصیرت ہمراہ جہاد کرنے والے دیگر لوگوں کے علاوہ یہ سب ایک امت ہیں۔2۔کوئی مسلمان یا اس کے اہل و عیال اس وحدت میں فتنہ وفساد اور تفرقہ پیدا نہیں کریں گے۔مسلمان کے ہاتھوں اگر کوئی غیر مسلم مارا جائے تو قاتل کو قانون کے مطابق سزادی جائے گی۔معاہدہ میں شامل کوئی گروہ خون بہا کی مقررہ حدود میں تخفیف یا ترمیم نہیں کرے گا اس معاہدہ میں کوئی بے جا سفارش نہ چلے گی۔4۔کسی غیر مسلم کو حق نہ ہوگا کہ کسی مسلمان کو ناحق تکلیف پہنچائے۔5۔حصول انصاف کی خاطر مسلمان کو یہودی کی مدد میں کوئی روک نہ ہوگی۔6۔کوئی مسلمان کسی غیر مسلم کو مسلمانوں کے خلاف پناہ نہیں دے گا۔نہ ہی کسی غیر مسلم سے حاصل ہونے والے مال کی حفاظت کا ذمہ اٹھائے گا۔7۔کوئی مسلمان کسی یہودی پر ناحق تہمت نہیں لگائے گا۔۔یہود اور مسلمان باہم خیر خواہی سے رہیں گے۔9۔فریقین اپنے ہمسائے کی حفاظت کریں گے خواہ اس کا مذہب کوئی بھی ہو۔10۔کسی بھی فساد اور شرارت کرنے والے کو پناہ نہیں دی جائے گی۔جیسا کہ پہلی شق سے ظاہر ہے اس میثاق کا پہلا اہم نکتہ وحدت تھا کہ دین اسلام (جس کی بنیاد تو حید ہے ) عملی طور پر مسلمانوں اور دیگر اقوام کو معاشرتی حقوق میں برابری کی سطح پر امت واحدہ بنانا چاہتا ہے۔جس کے نتیجہ میں ہر فرق اور تمیز ختم ہوکر رہ جاتی ہے۔وحدت وہ پہلی اساس ہے جو ایک مضبوط ، پر امن اور پاکیزہ معاشرے کی عمارت قائم کرنے کے لئے ضروری ہے۔میثاق مدینہ کا دوسرا اور تیرا نکتہ قیام امن، قانون قصاص اور با ہمی کفالت ، ضمانت اور دیت کے نظام کو واضح کرتا ہے۔جسکی موجودگی میں ریاست مدینہ کے پُرامن معاشرہ کے قیام اور استحکام میں بہت مدد ملی۔میثاق مدینہ کا چوتھا ، پانچواں اور چھٹا نکتہ قیام عدم و انصاف اور نظام مساوات کو ظاہر کرتا ہے ، جو اسلامی معاشرے کا اہم ستون ہے۔معاہدہ کی ایک شق یہ بھی تھی کہ ذِمَّةُ اللهِ وَاحِدَةٌ يُجِيرُ عَلَيْهِم أَدْنَا هُمْ یعنی اللَّہ تعالیٰ کا ذمہ ایک ہے، مسلمانوں کا ادنی فرد مرد ہو یا عورت کسی کو پناہ دے دے تو اس کی پابندی سب پر لازم ہوگی۔دیگر نکات معاہدہ با ہمی اخوت، غیر مسلم ہمسایوں سے رواداری، ظلم کے خلاف جہاداور عزت کی حفاظت کے آئینہ دار ہیں۔الغرض ریاست مدینہ کے آئین میں مذہب رنگ و نسل اور جنس کے کسی امتیاز کے بغیر بنیادی انسانی حقوق کی واضح اور یقینی طور پر ضمانت دی گئی اور جان و مال اور آبرو کے تحفظ میں ریاستی شہریوں میں کوئی امتیاز روانہ رکھا گیا۔میثاق مدینہ کے گہرے مطالعہ سے کئی اور اصول بھی مستنبط ہو سکتے ہیں۔تاہم ان موٹی شرائط سے ہی ایک ریاست