اسوہء انسانِ کامل — Page 606
اسوہ انسان کامل 606 آنحضرت ﷺ کی خداداد فر است و بصیرت امامت کرائے“۔(ترمذی )11 رسول اللہ کی یہ بصیرت افروز باتیں بظاہر ناموافق حالات میں من وعن اسی طرح پوری ہوئیں ، جس کا اشارةُ اظہار آپ نے قبل از وقت فرما دیا تھا۔ایک موقع پر آپ نے حضرت عمر کی روحانی استعدادوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں محدث ( یعنی صاحب الہام ) ہوا کرتے تھے۔اور میری امت میں اگر کوئی ان میں سے ہوا تو عمرہ ضرور ہونگے۔( بخاری )12 رسول اللہ نے فرمایا کوئی نہیں نہیں گزرا مگر میری امت میں اس کی نظیر موجود ہے، حضرت ابوبکر حضرت ابراہیم کے نظیر ، حضرت عمرؓ حضرت موسی کے نظیر ، حضرت عثمان حضرت ہارون کے نظیر اور حضرت علی میرے نظیر ہیں اور جسے یہ بات خوش کرے کہ وہ حضرت عیسی بن مریم کو دیکھے تو وہ حضرت ابوذر غفاری کو دیکھ لے۔(کنز العمال)13 آغاز اسلام میں تبلیغی حکمت عملی رسول اللہ کی ساری زندگی ہی نور الہی کے جلووں سے لبریز ہے۔آپ کی سوچیں آپ کے اقدام سب نوار نی معلوم ہوتے ہیں۔دعوی نبوت کے بعد آنحضور ﷺ نے پہلی حکمت عملی یہ اختیار کی کہ اسلام کا پیغام مخفی طور پر انفرادی تبلیغ کے ذریعہ مکہ کے شریف النفس اور سمجھدار لوگوں تک پہنچایا جائے۔ابتدائی تین سال تک اسی طریق پر عمل رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھول کر پیغام پہنچانے کا حکم ہوا۔(سورۃ الحجر : 95) توقع یہ تھی کہ قبیلہ قریش کے چودہ خاندانوں میں سے جو باہم معاہدوں میں بندھے ہوئے تھے ،سب سے پہلے آپ کا قبیلہ بنو ہاشم پیغام اسلام پر توجہ کرے گا۔مگر جب قریبی رشتہ داروں کو تبلیغ کا حکم ہوا تو رسول اللہ نے اپنے ان رشتہ داروں کو بڑی حکمت عملی سے دعوت طعام کے ذریعہ پیغام پہنچانے کا اہتمام کیا۔جس پر چالیس حاضرین اکٹھے بھی ہوئے مگر آپ کے چھا ابولہب نے کھانے کے بعد بد مزگی پیدا کر کے انہیں منتشر کر دیا اور آپ کا پیغام سنے نہ دیا۔اگلی دفعہ آپ نے پھر دعوت کی اور کھانے سے پہلے اپنے رشتہ داروں کو پیغام پہنچایا۔مگر سوائے حضرت علیؓ کے کسی نے ساتھ نہ دیا۔بعد میں دیگر قبائل قریش کو وہ صفا پر پیغام پہنچاتے ہوئے گفتگو کا جو انداز آپ نے اختیار فرمایا وہ کمال حزم وبصیرت کا حامل تھا۔آپ نے فرمایا کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑی کے دامن سے ایک لشکر تم پر حملہ کرنے کو ہے تو کیا تم میری بات کو سچ جانو گے؟ سب نے اثبات میں جواب دیا تو آپ نے پیغام اسلام دے کر عذاب الہی سے ڈرایا۔اس کے بعد جب مخالفت کا طوفان بدتمیزی اُٹھا تو حضور ﷺ اور آپ کے اصحاب نے یہ حکمت عملی اختیار کی کہ ایک عرصہ تک مکہ کی گھاٹیوں میں مخفی نماز پڑھتے رہے۔(ابن ہشام )14 ابتدائی دور میں مکہ سے حضرت عبد اللہ بن ارقم کا گھر حضور اور آپ کے صحابہ کی خاموش تبلیغی سرگرمیوں کا