اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 607 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 607

607 آنحضرت ﷺ کی خداداد فر است و بصیرت اسوہ انسان کامل مرکز بنا۔اسی زمانہ میں طفیل بن عمرو دوسی اور ابوذر غفاری نے مخفی طور پر اسلام قبول کیا۔(مستدرک )15 جب مخالفت زیادہ ہوگئی تو آپ نے اپنے اصحاب کو کمال دور اندیشی سے یہ مشورہ دیا کہ حبشہ میں ایک عادل بادشاہ ہے وہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا ہم لوگ وہاں ہجرت کر جاؤ۔چنانچہ کچھ لوگ حبشہ ہجرت کر گئے۔(ابن جوزی )16 مکہ میں پیچھے رہ جانے والے کمزوروں میں خباب اور یاسر کے خاندان کے علاوہ غلاموں اور لونڈیوں کو شدید اذیتوں کا سامنا تھا۔رسول اللہ کے لئے سوائے صبر کی تلقین اور دعا کے کوئی چارہ نہ تھا۔حضرت بلال کو آپ کی ہی تحریک پر حضرت ابوبکر نے خرید کر آزاد کیا۔اس زمانہ میں آپ کی صبر اور مظلومیت اور دعا کی حکمت عملی کا بھی غیر معمولی اثر ہی تھا کہ حضرت عمرؓ اور حضرت حمزہ نے اسلام قبول کر لیا۔شعب ابی طالب مسلمانوں اور بنو ہاشم سے قریش کے تین سالہ معاشی و معاشرتی بائیکاٹ کے دوران رسول اللہ نے غیر معمولی حکمت عملی سے کام لے کر ان مشکل حالات کا مقابلہ کیا۔رسول اللہ کی حفاظت کے لئے روزانہ رات کو آپ کے سونے کی جگہ بدلنی پڑتی تھی۔مکہ میں اپنے ہمدردوں اور بہی خواہوں سے رات کے اندھیرے میں رابطے رکھ کر غلہ اور غذائی اشیاء حاصل کی جاتی تھیں۔حضرت ابو طالب اور حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد مکہ میں رسول اللہ پر مظالم کا سلسلہ بڑھ گیا تو آپ نے طائف جا کر بنو ثقیف کو اسلام پہنچانا چاہا مگر انہوں نے ظلم و زیادتی سے اس پیغام کو ٹھکرا دیا۔اب دوبارہ مکہ میں آکر اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے حضور ﷺ کے لئے کسی با اثر سردار کی پناہ لینی ضروری تھی۔اس مقصد کے لئے آپ نے بعض شرفائے مکہ کا انتخاب کر کے انہیں پیغام بھجوایا کہ مجھے اپنے رب کا پیغام پہنچانے کے لئے تمہاری پناہ درکار ہے۔دوسر داروں نے تو اپنی کمزوری کا عذر کیا مگر مطعم بن عدی آپ کی امیدوں پر پورا اترا۔وہ جرات مند سردار آپ کو اپنے سلح بیٹوں اور بھتیجوں کی معیت میں مکہ لایا۔ابوجہل نے اسے دیکھ کر پوچھا کہ کیا آپ نے ان کو پناہ دی ہے؟ مطعم نے کہا ہاں پھر انہوں نے حضور کو اپنی حفاظت میں خانہ کعبہ کا طواف کروایا۔حضور نے مطعم کی وفات کے بعد بھی اس کی شرافت اور احسان کو یا درکھا۔( تاریخ طبری )17 اس زمانہ میں رسول اللہ نے موسم حج اور عرب کے مشہور میلوں کے موقع پر دعوت اسلام کی تدبیر فرمائی اور ایک ایک قبیلہ کے پاس جاکر ان کے علاقوں میں اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے امان چاہی۔اس بابرکت حکمت عملی کے نتیجہ میں بالآخر یثرب سے حج پر آنے والے اوس اور خزرج قبیلہ کے لوگوں سے آپ کا رابطہ ہو گیا اور 12 سال نبوی کو عقبہ اولیٰ میں میٹرب کے 12 افراد کو قبول اسلام کی سعادت عطا ہوئی۔آنحضور ﷺ نے ان کے ساتھ اپنے نمائندہ حضرت مصعب بن عمیر کو بھجوا کر وہاں اسلام کے نفوذ کی راہ ہموار کی۔جس کی برکت سے اگلے سال حج کے موقع پر 72 افراد نے اسلام قبول کیا۔ان وفود سے بھی مکہ کی گھاٹیوں میں رات کی تاریکی میں ملاقاتیں ہوتی تھیں چنانچہ حضرت عباس نے انصار مدینہ کو اس موقع پر مشرکین کے جاسوسوں سے خبر دار کر منہ خطرہ سے بچنے کی تلقین کی تھی۔(ابن سعد )18