اسوہء انسانِ کامل — Page 605
605 آنحضرت ﷺ کی خداداد فر است و بصیرت اسوہ انسان کامل جب وہ رسول اللہ کے گھر میں بیٹھ چکے تو وہی ہوا جس کا ڈر تھا حضور نے فرمایا لواب ان کو دودھ پلاؤ۔میں نے دودھ کا پیالہ لیا اور وہاں موجود ہر شخص کو دودھ پلانے لگا، یہاں تک کہ جب وہ سیر ہو جاتا تو پیالہ مجھے دے دیتا اور میں دوسرے شخص کو پیالہ دے دیتا اور جب وہ سیر ہو جاتا تو پیالہ مجھے واپس دے دیتا۔پھر میں تیسرے شخص کو دے دیتا جب وہ سیر ہو جاتا تو پیالہ مجھے دے دیتا۔بالآخر میں وہ پیالہ لے کر نبی کریم کے پاس پہنچا۔سب لوگ سیر ہو کر دودھ پی چکے تھے۔حضور نے پیالہ لے کر اپنے ہاتھ پر رکھا اور مجھے دیکھ کر بسم فرمایا اور کہنے لگے ابو ہریرہ ! اب میں اور تم باقی رہ گئے عرض کیا جی ہاں ! رسول اللہ نے فرمایا اب بیٹھو اور پیو۔میں بیٹھ کر پینے لگا آپ نے فرمایا اور پیو۔میں نے اور پیا مگر آپ فرما رہے تھے اور پیو۔یہاں تک کہ میں نے عرض کیا اُس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اب تو میرے اندر دودھ جانے کی کوئی گنجائش نہیں فرمایا پھر لاؤ مجھے دو۔میں نے دودھ کا وہ پیالہ آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا۔آپ نے اللہ کی حمد کی اور اسکا نام لے کر باقی ماندہ دودھ نوش فرمالیا۔( بخاری )8 اپنے صحابہ کی طبع شناسی قرآن شریف میں رسول اللہ ﷺ کی یہ خصوصیت بھی بیان فرمائی گئی ہے کہ وہ منافقوں کو ان کے آثار اور لہجہ سے پہچان لیتے ہیں (سورۃ محمد : ۳۱) اس کی بے شمار واقعاتی مثالیں احادیث میں موجود ہیں۔حضرت سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ایک دفعہ مال تقسیم فرمارہے تھے۔آپ نے ایک شخص کو جسے میں مومن یقین کرتا تھا اس میں سے عطا نہیں فرمایا۔میں نے اپنے علم کی بنا پر اس کی سفارش کرتے ہوئے عرض کیا کہ یا رسول ﷺ میرے نزدیک تو یہ مومن ہے ، آپ نے فرمایا یا مسلمان؟ یعنی اس سے بھی بڑھ فرمانبرداری اختیار کرنے والا حضرت سعد کی بار بار کی سفارش پر رسول اللہ یہی جواب دیتے رہے اور تیسری بار فر مایا اے سعد! میں ایک شخص کو دیتا ہوں جبکہ اسکے علاوہ کوئی اور مجھے زیادہ پیارا ہوتا ہے۔مگر میں اسے فتنہ سے بچانے کے لئے اس ڈر سے دیتا ہوں کہ کہیں اللہ تعالیٰ اسے اوندھے منہ آگ میں نہ گرا دے۔( بخاری )9 رسول کریم اپنے بلند مرتبہ صحابہ کی صلاحیتوں اور قابلیتوں کے بارہ میں بھی خوب معرفت رکھتے تھے۔آپ کی فراست روحانی نے بھانپ لیا تھا کہ آپ کے بعد حضرت ابو بکر آپ کے جانشین ہوں گے۔چنانچہ آپ نے ایک موقع پر حضرت عائشہ سے فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا کہ ابو بکر اور اس کے بیٹے کو بلا کر ( خلافت کی ) وصیت کر دوں ، مبادا اعتراض کرنے والا کوئی اعتراض کرے یا خواہش کرنے والا کوئی خواہش کرے۔پھر میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ ( ابو بکر کے علاوہ) کسی کو خود ہی رڈ فرمادے گا اور مومن بھی اس کے علاوہ کسی دوسرے شخص کا انکار کر دیں گے۔( بخاری )10 یہی وجہ تھی کہ آپ نے اپنی آخری بیماری میں امامت نماز کے لئے حضرت ابو بکر کو ارشاد فرمایا اور باوجود حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے اصرار کے کہ حضرت عمر امامت کروائیں آپ نے فرمایا کہ تم یوسف والیاں ہو۔ابو بکر کو کہو کہ وہی نماز پڑھائیں، نیز فرمایا کہ جن لوگوں میں ابو بکر موجود ہوں مناسب نہیں کہ کوئی اور ان کو نماز کی