اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 602 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 602

602 آنحضرت ﷺ کی خدادادفر است و بصیرت اسوہ انسان کامل حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کی تعریف کرتے ہوئے انہیں اولی الابصار یعنی صاحب بصیرت کے خطاب سے نوازا ہے۔جس میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو وہ لوگ پسند ہیں جو بصر اور بصیرت سے اس کے کام اور کلام کو دیکھتے اور پھر اس پر عمل کرتے ہیں۔اور یہ خوبی تزکیہ نفس اور باطنی پاکیزگی سے حاصل ہوتی ہے۔اہل فراست کی عمدہ مثالیں پیش کرتے ہوئے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے کیا خوب کہا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ فراست رکھنے والے تین گزرے ہیں۔اول: عزیز مصر: جنہوں نے اپنی بیوی کو حضرت یوسف کے بارہ میں یہ کہا کہ اس کی رہائش کی جگہ باعزت بنانا۔امید ہے کہ یہ ڑ کا ہمارے لئے نفع رساں ہوگا یا شاید ہم اسے بیٹا ہی بنالیں“۔(سورۃ یوسف:22) دوسرے شعیب کی صاحبزادی جنہوں نے حضرت موسیٰ" کے بارہ میں اپنے باپ سے کہا کہ اسے ملازم رکھ لیں کیونکہ ملازم وہی بہترین ہے جو مضبوط اور امانت دار ہو“۔(القصص: 27) جب اس سے پوچھا گیا کہ تمہیں موسی" کی امانت کا کیسے علم ہوا؟ تو کہنے لگی میں اسے اپنے گھر لے کر آتے ہوئے راستہ بنانے کے لئے آگے چل رہی تھی تو وہ مجھے ( پردہ اور حفاظت کی خاطر ) اپنے پیچھے کر کے خود آگے چلنے لگا۔تیسرے فرعون کی بیوی کہ جس نے نوزائیدہ حضرت موسی کو سمندر میں بہتے ہوئے صندوق سے نکال کر اپنے شوہر سے کہا تھا کہ ”یہ میرے اور تمہارے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا ، اسے قتل نہ کرنا ممکن ہے یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا ہی بنالیں“۔(سورۃ القصص:10) بعض روایات کے مطابق حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے ایک بات یہ بھی کہی تھی کہ حضرت ابو بکر اپنے بعد حضرت عمرؓ کو خلیفہ نامزد کرنے میں بہت صاحب فراست نکلے۔(بیشمی )1 فراست نورانی جہاں تک رسول کریم کی فراست نورانی اور بصیرت روحانی کا تعلق ہے اسکی شہادت تو خود عرش کا خدادیتا ہے کہ آپ نے خدا کے ”نور“ سے وافر حصہ پایا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے جس میں ایک چراغ ہو۔وہ چراغ شیشہ کے شمع دان میں ہوا اور وہ شیشہ ایسا ہو گویا ایک چمکتا ہوا روشن ستارہ ہے۔وہ ( چراغ ) زیتون کے ایسے مبارک درخت سے روشن کیا گیا ہو جو نہ مشرقی ہو اور نہ مغربی۔اس درخت ) کا تیل ایسا ہے کہ قریب کہ وہ از خود بھڑک کر روشن ہو جائے خواہ اسے آگ کا شعلہ نہ چھوا ہو یہ نور علی نور ہے۔اللہ اپنے نور کی طرف جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کا دائمی علم رکھنے والا ہے۔(سورۃ النور :36) اس قرآنی تمثیل میں یہ خوبصورت مضمون بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی نورانی عقل الہام سے پہلے خود بخود دروشن ہونے پر مستعد تھی اور کئی نور حضرت خاتم الانبیاء میں جمع تھے ان نوروں پر وحی الہی کا نور آسمانی وارد ہوا تو آپ کا وجود مجمع