اسوہء انسانِ کامل — Page 601
اسوہ انسان کامل 601 آنحضرت ﷺ کی خداداد فر است و بصیرت آنحضرت ﷺ کی خدا داد فراست و بصیرت عليه اے کہ خواندی حکمت یونانیاں حکمت ایمانیاں راہم بخواں دنیا میں انسان کو قدم قدم پر امتحان اور مشکلات و مصائب کی کئی تاریکیاں در پیش ہیں۔لامذہب دنیا دار تو اس وادی ظلمت کو طے کرنے کے لئے اپنے علم ، تجربہ اور ذہانت کو کام میں لاتے ہیں جو کبھی کامیاب ہو جاتے ہیں تو کبھی نا کام۔لیکن ایک خالص مذہبی انسان کا طرز عمل قدرے مختلف ہوتا ہے۔کیونکہ وہ ایک ایسی عالم الغیب اور قادر مطلق ہستی پر یقین رکھتا اور اس سے تعلق کا دم بھرتا ہے جو سراپا نور ( روشنی ) ہونے کے ساتھ ہادی و مجیب بھی ہے۔وہ اپنے بندوں کی پکار کا جواب دیتا اور اپنی رضا اور سلامتی کی راہوں کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔اس لئے اگر دنیا والوں کے نزدیک فراست سے مراد محض انسان کی عقل فطری و جبلی ذہانت اور محنت و تجربہ سے حاصل ہونے والی دانش مندی ہے۔تو ایک عارف باللہ اپنے مولیٰ کے عطا کردہ نور معرفت اور اس کے فضل سے حاصل والی بصیرت روحانی کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔جس سے خدا تعالیٰ اس کے دل و دماغ کو منور کر کے کامیابی کی راہیں دکھا دیتا ہے۔ورنہ محض عقل تو الہام کی روشنی کے بغیر اندھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کی کامیابی کی شرح اہل دنیا کی جبلی ذہانت اور تجرباتی دانش مندی سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں اور ان کے ماننے والوں کی تاریخ اور سیرت اس پر شاہد ناطق ہے۔جن میں سر فہرست ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ملے ہیں جن کی ذات میں یہ معجزہ رونما ہوا کہ وہ امی اور ناخواندہ ہو کر ساری دنیا کے معلم کتاب و حکمت بنائے گئے۔امی و در علم و حکمت بے نظیر زیں چه باشد، مجتے روشن ترے اسی کامیاب ترین انسان حضرت محمد مصطفی میں اللہ کی نورانی زندگی کے خوبصورت اور دلچسپ واقعات کا مطالعہ یہاں مقصود ہے۔غرض یہ کہ اس بزرگ ہستی کے اسوہ حسنہ سے ہم اپنے لئے فراست کے عمدہ نمونے اور سبق تلاش کریں۔دراصل فراست و بصیرت سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی واقعہ سے پہلے آثار سے ہی اس کو بھانپ لے۔یہ ادراک اسے اپنے حواس یعنی آنکھ ، کان یا دل کسی ذریعہ سے بھی حاصل ہو سکتا ہے۔جس کے بعد وہ مناسب پیش بندی کر کے ممکنہ نقصان سے بچ سکتا ہے اور متوقع فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے بندوں