اسوہء انسانِ کامل — Page 603
اسوہ انسان کامل 603 آنحضرت ﷺ کی خداداد فر است و بصیرت الانوار بن گیا۔(براہین )2 یہ نور اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل ایمان کی برکت سے عطا ہوتا ہے اور نہایت شیر میں ثمرات پیدا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے وہ ان کو اندھیروں سے نور کی طرف نکالتا ہے“ (سورۃ البقرہ:258) ایک اور مقام پر کفر کو موت اور ایمان کو زندگی سے تعبیر کرتے ہوئے فرمایا کہ "پس کیا وہ جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کیا اور ہم نے اس کے لئے ایسا نور بنایا جس کے ذریعہ وہ لوگوں میں چلتا ہے۔کیا وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جواند ھیروں میں پڑا ہوا ہے ( اور ) ان سے نکلنے والا نہیں۔(سورۃ الانعام : 123) پس فراست ایمانی سے مراد وہ آنکھ ہے جو نور الہی سے دیکھتی ہے۔اور یہ قوت انسان کی ایمانی طاقت کے مطابق اسے ملتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ مقام ہمارے نبی حضرت محمد میلہ کو عطا ہوا جن کو قرآن میں اول المسلمین کہہ کہ بصیرت کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز قرار دیا گیا ہے۔فرمایا تو کہ دے یہ میرا راستہ ہے۔میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں ، میں بصیرت پر قائم ہوں اور وہ ( بھی بصیرت پر ہے ) جس نے میری پیروی کی' (سورۃ یوسف: 109) رسول اللہ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے پھر آپ نے سورہ حجر کی آیت 76 تلاوت فرمائی کہ اس میں فراست کی نظر رکھنے والوں کے لئے نشان ہیں۔( ترندی) 3 حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑھ کر یہ فراست ایمانی ہمارے نبی ﷺ کو نصیب تھی پھر حسب مراتب دیگر مومنوں کو۔چنانچہ رسول اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے ہوتے ہیں جولوگوں کوغور سے دیکھ کر پہچان لیتے ہیں۔(قیمی )4 اللہ تعالیٰ کی طرف کامل طور پر جھکنے اور دعاؤں کے ذریعہ اس سے مدد چاہنے کے نتیجہ میں ایمانی فراست بڑھتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی طرف خالص تو بہ کرتے ہوئے جھکو۔بعید نہیں کہ تمہارا رب تم سے تمہاری بُرائیاں دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔جس دن اللہ نبی کو اور ان کو رسوا نہیں کرے گا جو اس کے ساتھ ایمان لائے ان کا نوران کے آگے بھی تیزی سے چلے گا اور ان کے دائیں بھی۔وہ کہیں گے اے ہمارے رب! ہمارے لئے ہمارے نور کو مکمل کر دے اور ہمیں بخش دے۔یقینا تو ہر چیز پر جسے تو چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے“۔(سورہ التحریم: 9) ہمارے نبی ﷺ اپنی صبح کا آغاز نماز فجر سے پہلے اس دعا سے کرتے تھے۔”اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا کر دے۔میری قبر بھی روشن کر دے۔میرے سامنے اور پیچھے بھی روشنی ہو۔دائیں اور بائیں بھی روشنی ہو ، او پر اور نیچے بھی نور ہو۔میری سماعت اور بصارت کو بھی جلا عطا کر۔میرے بال اور جلد بھی نورانی کر دے۔میرے گوشت اور خون میں