اسوہء انسانِ کامل — Page 598
598 نبی کریم ” کا حسنِ مزاح اور بے تکلفی اسوہ انسان کامل مجھے واپس کر دینا ہو تو پھر میں اسے نہیں بیچتا۔تم میر اغلام خراب کر کے مجھے نہ لوٹانا۔انہوں نے ہر طرح سے تسلی دلائی کہ وہ ضرور یہ غلام خریدیں گے اور دس اونٹوں کے عوض انہوں نے نعیمان کا سودا کر دیا۔جب قافلہ کے لوگ نعیمان کو لینے آئے اور اس کے گلے میں پڑکا ڈالا کہ چلو ہمارے ساتھ تو وہ کہنے لگے۔یہ تم سے مذاق کر رہا ہے میں تو آزاد ہوں غلام نہیں ہوں۔قافلہ والوں نے کہا یہ تو ہمیں پہلے سے پتہ تھا کہ تم یہ کہو گے چنانچہ وہ اسے پکڑ کر لے گئے۔(اب سُو یبط نے آرام سے کھانا وغیرہ کھالیا )۔حضرت ابوبکر کام سے واپس تشریف لائے تو ان کو اس قصہ کا پتہ چلا ، وہ اس قافلہ کے پیچھے گئے اور انہیں دس اونٹ واپس کر کے نعیمان کو چھڑا کر لے آئے۔سفر سے واپس نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور کو یہ قصہ سنایا تو حضور بہت محظوظ ہوئے اور آپ کے صحابہ ایک سال تک یہ واقعہ یاد کر کے ہنستے رہے۔(ابن ماجہ ) 23 تفریح کے مواقع معمول کی زندگی میں تفریح کا اہم کردار ہے۔اس کے گہرے اثرات انسانی زندگی پر پڑتے ہیں اور انسان تازہ دم ہوکر پھر مصروف عمل ہو جاتا ہے۔نبی کریم کی باقاعدہ زندگی میں تفریح کا عنصر بھی نمایاں تھا۔رسول کریم کا معمول تھا کہ ہر ہفتہ پیدل مسجد قبا تشریف لے جاتے تھے۔گاہے بگاہے اپنے صحابہ کے ساتھ پکنک منانے کا بھی شغل رہتا تھا۔حضرت ابوطلحہ کا ایک باغ بیرحاء نامی (مسجد نبوی کے سامنے تھا) حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اپنے اصحاب کے ساتھ تشریف لے جاتے تھے۔تازہ کھجوریں نوش فرماتے۔اس کے چشمہ کا ٹھنڈا پانی پیتے اور کچھ وقت وہاں گزار کر خوش ہوتے۔( بخاری ) 24 عید وغیرہ کے موقع پر بھی تفریح کے مواقع پیدا کئے جاتے۔گھر میں بچیاں ننھے وغیرہ گاتی اور خوشی مناتی تھیں۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک عید کے موقع پر رسول اللہ گھر تشریف لائے تو دیکھا کہ دولڑکیاں جنگ بعاث کے نغمے گارہی ہیں۔آپ بستر پر لیٹ گئے اور رخ دوسری طرف کر لیا۔حضرت ابو بکر نے آکر مجھے ڈانٹا اور کہا رسول اللہ کے گھر میں یہ شیطان کا با جا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ان کو خوشی کر لینے دو۔ہر قوم کا ایک عید کا دن ہوتا ہے۔اور یہ ہمارا عید کا دن ہے۔( بخاری ) حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ عید کے موقع پر اہل حبشہ نے مسجد نبوی میں کرتب دکھائے۔رسول اللہ نے 25 فرمایا کہ تم بھی دیکھنا چا ہوگی؟ چنانچہ میں آپ کے پیچھے کھڑی ہو کر دیر تک ان کے کرتب دیکھتی رہی۔( بخاری ) 26 حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم کے مدینہ میں ابتدائی زمانے کے ایک سفر کا ذکر ہے، میں لڑکی سی تھی ، ابھی موٹا پا نہیں آیا تھا۔نبی کریم نے قافلہ کے لوگوں سے فرمایا تم آگے چلے جاؤ۔پھر مجھے فرمانے لگے آؤ میرے ساتھ دوڑ کا