اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 599 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 599

599 نبی کریم " کا حسنِ مزاح اور بے تکلفی اسوہ انسان کامل مقابلہ کر لو۔میں نے آپ سے دوڑ لگائی تو آگے نکل گئی۔حضور خاموش رہے (معلوم ہوتا ہے آنحضور نے حضرت عائشہ کی خوشی کی خاطر انہیں آگے نکلنے دیا تبھی کوئی تبصرہ نہیں فرمایا اور خاموشی اختیار کی )۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ بعد میں جب میرا جسم کچھ فربہ ہو گیا اور وزن بڑھ گیا ہم ایک اور سفر کے لئے نکلے۔رسول اللہ نے پھر قافلہ سے فرمایا کہ آپ لوگ آگے نکل جائیں۔پھر مجھے فرمایا آؤ آج پھر دوڑ کا مقابلہ کرتے ہیں۔ہم نے دوڑ لگائی اس دفعہ رسول کریم آگے نکل گئے۔آپ مسکراتے ہوئے فرمانے لگے لو پہلی دفعہ تمہارے جیتنے کا بدلہ آج اُتر گیا۔(احمد) 27 حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت کی شادی ایک انصاری شخص سے ہوئی۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔اے عائشہ ! تمہارے پاس کوئی روافق وغیرہ کا سامان نہیں ہے۔انصار کو ( ایسے موقع پر ) روفق پسند ہے۔( بخاری ) 28 ایک دفعہ ایک عورت نبی کریم کے پاس آئی۔حضور نے فرمایا عائشہ تمہیں پتہ ہے ، یہ کون ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ، اے اللہ کے نبی! آپ نے فرمایا۔یہ فلاں قبیلے کی مغنیہ ہے۔کیا تم اس سے کوئی گانا سننا چاہتی ہو؟ عائشہ نے عرض کیا ، کیوں نہیں، پھر حضرت عائشہؓ نے اس کو ایک طشتری دی ، جسے بجا کر اس نے گانا گایا۔جب وہ گا چکی تو نبی کریم نے اس پر تبصرہ فرمایا۔اس کے نتھنوں میں شیطان پھونکتا ہے۔( احمد )29 اس طرح آپ نے اس کے فن کی داد بھی دے دی اور گانے بجانے سے اپنی طبعی بے رغبتی کا اظہار بھی فرما دیا۔الغرض رسول کریم کو غیر معمولی لطیف حس مزاح عطا ہوئی تھی۔اور اس بچے اور پاکیزہ مزاح سے آپ نے اپنی ، اپنے اہل خانہ اور صحابہ کی مشکل زندگی کو بھی پُر لطف بنادیا تھا۔اللهم صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمّد حواله جات 2 1 مسلم (40) كتاب الاداب باب 12 مجمع الزوائد جلد9ص 17 3 شرح مواهب اللدنيه للزرقاني جلد4ص 253 4 ترمذی (17) كتاب البرو الصلة باب 10 5 جامع الكبير للسيوطى ص142