اسوہء انسانِ کامل — Page 597
اسوہ انسان کامل 597 نبی کریم ” کا حسنِ مزاح اور بے تکلفی مسلمان ہوا ہوں میرا اونٹ کبھی نہیں بھاگا۔رسول اللہ نے فرمایا اللہ تم پر رحم کرے۔آپ نے دو یا تین مرتبہ یہ عادی۔اس کے بعد آپ نے میرے ساتھ کبھی یہ مذاق نہیں فرمایا۔(طبرانی) 19 رسول اللہ کی خوش مزاجی کے بارہ میں ایک دلچسپ روایت جریر بن عبداللہ اسمبلی کی ہے۔جو بجیلہ قبیلہ کا وفد لے کر آخری زمانہ 10ھ میں مدینہ آئے اور اسلام قبول کیا تھا۔وہ بیان کرتے ہیں کہ قبول اسلام کے بعد کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ نے مجھے دیکھا ہو اور مسکرائے نہ ہوں۔انہوں نے رسول اللہ کی خدمت میں یہ عرض کیا کہ میں گھوڑے پر جم کر بیٹھ نہیں سکتا۔رسول اللہ نے ان کے سینے میں ہاتھ مارا اور دعا کی۔جس کے بعد جریر کبھی گھوڑے سے نہیں گرے۔( بخاری ) 20 جریر کو دیکھ کر ہمیشہ مسکرانے کی روایت سے طبعا سوال پیدا ہوتا تھا کہ حضرت جریر کے ساتھ اس امتیازی سلوک کا کیا سبب ہوگا ؟ بیشمی کی ایک تفصیلی روایت میں اس دلچسپ وضاحت نے یہ مسئلہ حل کر دیا۔براء بن عازب یوں بیان کرتے ہیں کہ میں نے (ایک روز ) رسول کریم کو فرماتے سنا کہ تمہارے پاس اس رستہ سے یمن کا ایک بہترین شخص آئیگا اس کے چہرہ پر سرداری کے آثار ہیں۔اس شخص نے آکر رسول اللہ کو سلام کیا اور ہجرت پر آپ کی بیعت کی۔آپ نے اس سے تعارف پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ جریر بن عبداللہ البجلی ہیں۔رسول اللہ نے ( ان کی درخواست دعا پر جیسا کہ بخاری میں ہے ) ان کیلئے دعا کرتے ہوئے برکت کے لئے ان پر ہاتھ پھیرنا چاہا اور ان کو اپنے پہلو میں بٹھا کر پہلے سر اور چہرے پر ہاتھ پھیرا۔پھر سینے اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا۔جزیرا جنبی تھے وہ صورتحال سمجھ نہ پائے۔اور یہ خیال کیا کہ رسول اللہ شاید برکت دینے کیلئے ان کے تہ بند میں بھی ہاتھ ڈالیں گے اور وہ شرم کے مارے سمٹ کر کبڑے ہو گئے۔( پیشمی ) 21 دوسری روایت میں خود جریر اپنی آمد کا یہ قصہ بیان کر کے کہتے تھے کہ اس کے بعد جب بھی رسول اللہ کی نظر مجھ پر پڑتی آپ مسکرا پڑتے تھے۔وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ حضور نے مجھے اپنی چادر بچھا کر اس پر بٹھایا تھا۔اور صحابہ سے فرمایا تھا کہ جب کسی قوم کا معز بشخص آئے تو اس کی عزت کیا کرو۔( بیھقی ) 22 آخر میں ایک ایسے دلچسپ مزاح کا ذکر جسے رسول اللہ کی مجلس میں ایک سال تک سنا کر صحابہ محفوظ ہوتے رہے۔حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابوبکر رسول اللہ کی وفات سے ایک سال قبل تجارت کے لئے بصری گئے۔آپ کے ساتھ نعیمان اور سویٹ بھی تھے۔ان دونوں کو غزوہ بدر میں شامل ہونے کی سعادت حاصل تھی۔نعیمان کی ڈیوٹی کھانے وغیرہ پر مقررتھی۔سویبط بہت مزاحیہ طبیعت کے ( ذہین ) انسان تھے۔دوران سفر انہوں نے نعیمان سے کھانا طلب کیا تو وہ کہنے لگے کہ حضرت ابو بکر کام سے واپس آجائیں تو پھر دوں گا۔تھوڑی دیر کے بعد ایک قافلہ وہاں سے گزرا۔سو یبط ان کو کہنے لگے کہ تم مجھ سے ایک غلام خریدو گے۔انہوں نے کہا ضرور خریدیں گے۔یہ کہنے لگے بس ایک خامی اس غلام میں ہے کہ وہ تمہیں یہی کہے گا کہ میں آزاد ہوں۔غلام نہیں ہوں۔اگر تم نے اس کی یہ بات سن کر