اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 580 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 580

580 رحمۃ للعالمین۔۔۔۔جانوروں کیلئے رحمت اسوہ انسان کامل فرمایا کہ کاش! یہ لوگ ان جانوروں کو آگ کی اذیت سے بچاتے اور منہ اور گوشت والے حصہ پر گرم لوہے سے نہ داغتے۔کیا انہیں احساس ہے کہ اس اذیت کا ان سے بدلہ لیا جائے گا؟ پھر آپ نے سمجھایا کہ اگر ضرور داغنا ہی پڑے تو دُم کے قریب پیٹھ کی ہڈی پر نشان لگایا جا سکتا ہے۔تا کہ جانور کو کم سے کم تکلیف ہو۔( بیشمی )4 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں شرف انسانیت کی خاطر کسی کے چہرے پر مارنے سے منع کیا وہاں جانوروں پر بھی رحم کرتے ہوئے اور ان کے چہرے کی عزت قائم کرتے ہوئے فرمایا کہ جانوروں کے چہرے پر نہ مارا کرو کیونکہ ہر چیز منہ سے تسبیح کرتی ہے۔ایک دفعہ آنحضرت عمل کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو اپنی سواریوں پر سوار اُن کو روکے ہوئے کھڑے تھے۔نبی کریم ﷺ نے ان کو فرمایا کہ سواریوں پر مناسب طریق سے سواری کرو اور اس کے بعد اچھے طریق سے ان کو چھوڑ دیا کرو۔بازاروں اور راستوں میں باتیں کرنے کیلئے ان کو کرسیاں بنا کر کھڑے نہ ہو جایا کرو۔بعض سواریاں اپنے سوار سے بھی بہتر اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ یاد کر نے والی ہوتی ہیں۔( ہیمی )5 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانوروں پر رحم کی خاطر سواری پر تین آدمیوں کے اکٹھے سوار ہونے سے منع فرماتے تھے۔ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جو لاغر ہو چکا تھا۔آپ نے فرمایا ” ان بے زبان جانوروں پر اس حال میں سواری کرو جب یہ صحت مند ہوں اور ان کو صحت کی حالت میں ذبح کر کے کھاؤ۔( ہیمی ) 6 عبد اللہ بن جعفر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی سواری کے پیچھے بٹھایا اور ایک انصاری کے باغ میں لے گئے۔وہاں پر ایک اونٹ نبی کریم کو دیکھ کر بلبلانے لگا اور اس کی آنکھوں سے پانی بہہ نکلا۔حضور اس کے پاس آئے اور اس کے منہ پر ہاتھ پھیرا تو وہ پر سکون ہو گیا۔نبی کریم نے پوچھا یہ کس کا اونٹ ہے ؟“ ایک انصاری نوجوان آگے بڑھا اور کہا کہ میرا اونٹ ہے۔آپ نے فرمایا کیا اس جانور کے بارے میں تم اللہ کا تقویٰ اختیار نہیں کرتے۔جس کا خدا نے تجھے مالک بنایا ہے۔اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور کام زیادہ لیتے ہو۔( احمد ) 7 پرندے کی تکلیف کا احساس حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ایک سفر میں پڑاؤ کیا۔ایک شخص نے جا کر ایک چڑیا کے گھونسلے سے انڈے نکال لئے۔وہ چڑیا آکر حضور اور آپ کے صحابہ کے سر پر منڈلانے لگی۔نبی کریم ﷺ کی نظر اس پر پڑی تو آپ نے فرمایا کہ اس پرندہ کو کس نے دُکھ پہنچایا ہے؟ ایک شخص نے کہا میں نے اس کے انڈے اُٹھائے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جاؤ اس کے انڈے واپس گھونسلے میں رکھ دو۔“ ( احمد )8 دوسری روایت میں چڑیا کے دو بچے اٹھا لینے کا ذکر ہے۔آپ نے چڑیا کو سروں پر پھڑ پھڑاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا اس چڑیا کو اس کے بچوں کی وجہ سے کس نے دکھ پہنچایا ہے؟ اس کے بچے اسے واپس کر دو۔“