اسوہء انسانِ کامل — Page 581
581 رحمۃ للعالمین۔۔۔۔۔جانوروں کیلئے رحمت اسوہ انسان کامل ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چیونٹیوں کا بل دیکھا ، جسے آگ لگائی گئی تھی۔آپ نے فرمایا ' اسے کس نے جلایا؟ صحابہ نے بیان کیا کہ ہم نے ایسا کیا ہے۔فرمایا کسی کو اللہ کا عذاب دینا مناسب نہیں۔‘ (ابوداؤد )9 نبی کریم ﷺ نے جانوروں کو باندھ کر نشانہ بنانے سے بھی منع کیا ہے۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک دفعہ وہ قریش کے کچھ نوجوانوں کے پاس سے گزرے، جو ایک پرندہ کو باندھ کر اس کے نشانے لے رہے تھے۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو دیکھ کر وہ ادھر اُدھر منتشر ہو گئے۔آپ نے پوچھا کس نے پرندے کو باندھ کر نشانے بنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے۔اور پھر کہا کہ آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں پر لعنت بھیجی ہے جو جانداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔(مسلم ) 10 حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے شکاری پرندے نیز چیونٹی ، شہد کی مکھی اور ھد ھد کو مارنے سے منع کیا۔(ابن ماجہ ) 11 مقصد یہ ہے کہ بے فائدہ کسی جانور کی جان نہ لی جائے۔بعض پرندے دیکھنے کو خوبصورت ہوتے ہیں ان کو مارنا مناسب نہیں۔نبی کریم جانوروں کو باندھ کر مارنے یا ان کا مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔(ابن ماجہ )12 جانوروں سے احسان کی تعلیم حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے وہ بکری کو اس کے کان سے پکڑ کر گھسیٹ رہا تھا۔آپ نے فرمایا ” اس کا کان چھوڑ دو اور گردن سے پکڑ لو۔“ ( گویا جانور کی تکلیف بھی آپ پر گراں گزری )۔(ابن ماجہ ) 13 حضرت شداد بن اوس بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان فرض کیا ہے۔( یعنی ہر ذی روح پر احسان کرنا انسان کے لئے لازم ہے۔پس جب تم کسی کو بطور قصاص کے قتل کرو تو قتل میں بھی احسان کا پہلو اختیار کرو اور جب تم کوئی جانور ذبح کرو تو احسان کا دامن نہ چھوڑو۔( ذبح کرنے میں احسان یہ ہے کہ ) چھری تیز کرلو اور ذبح ہونے والے جانور کو اس کے ذریعے آرام پہنچاؤ “ یعنی کند چھری کی وجہ سے جانور کی جان دیر سے نکلے گی اور اُسے تکلیف ہوگی۔اس سے بچو۔(ابن ماجہ ) 14 حضرت ابولبابہ بدری کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سفید رنگ کے چھوٹے بے ضرر سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا۔( بخاری ) 15 رسول اللہ نے جانوروں کو اذیت پہنچانے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی گرفت اور عذاب سے ڈرایا ہے۔ایک دفعہ فرمایا کہ ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا جس نے اس کو قید کر دیا تھا۔نہ خود اسے کچھ کھانے پینے کو دیا اور نہ ہی اُسے آزاد چھوڑا کہ وہ زمین سے ہی کوئی چیز کھا لیتی۔اس وجہ سے وہ عورت آگ میں ڈالی گئی۔( مسلم )16