اسوہء انسانِ کامل — Page 579
اسوہ انسان کامل 579 رحمۃ للعالمین۔۔۔۔جانوروں کیلئے رحمت رحمۃ للعالمین۔۔۔۔جانوروں کیلئے رحمت ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین کا عظیم خطاب دے کر بھیجا گیا۔بلاشبہ آپ تمام جہانوں کیلئے سراپا رحمت تھے۔آپ اس وحشی قوم میں مبعوث ہوئے جو جانوروں سے بھی بدتر تھی۔مگر آپ نے انہیں ایسا با خدا انسان بنادیا کہ وہ انسان تو انسان جانوروں کے ساتھ بھی رحمت اور شفقت سے پیش آنے لگے۔یہ نتیجہ تھا نبی کریم کے فیض صحبت اور تربیت کا۔آپ نے ان کے دلوں میں انسانوں کی محبت کا جذبہ بھی پیدا کیا اور حیوانوں سے پیار کرنا بھی سکھایا۔جانوروں پر رحم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ صحابہ کو یہ قصہ سنایا کہ ایک شخص پیدل جار ہا تھا۔اسے سخت پیاس محسوس ہوئی۔اس نے پانی کا کنواں دیکھا اور اس سے پانی پیا۔وہاں پر ایک کتا پیاس سے بے تاب گیلی مٹی چاٹ رہا تھا۔اس نے سوچا کہ اسے بھی میری طرح شدید پیاس لگی ہوگی۔وہ دوبارہ کنویں میں اترا اور اپنے جوتے میں پانی بھر کر، اسے اپنے منہ سے پکڑ کر باہر آیا اور کتے کو پانی پلایا۔اللہ تعالیٰ نے اس کی اس نیکی کی قدر کی اور اسے بخش دیا۔صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا ہمیں جانوروں کی وجہ سے بھی اجر ملے گا۔آپ نے فرمایا ہاں ہر ذی روح اور جاندار چیز کے ساتھ نیکی اور احسان کا اجر ملتا ہے۔“ (ابوداؤد ) 1 دوسری روایت میں ایک کنچنی کا ذکر ہے جس نے شدت پیاس سے بد حال ایک کتا دیکھا جو کنوئیں کے گرد چکر لگا رہا تھا ، وہ اپنا موزہ اتار کر کنوئیں میں اتری اور اس میں پانی لا کر کتے کو پلایا۔اس کی اس نیکی کے باعث اللہ نے اسے بخش دیا۔( مسلم )2 حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہم سفر تھے۔ایک انصاری عورت کی اونٹنی کچھ اڑ گئی اور رکنے لگی تو اُس نے بد دعا دیتے ہوئے اونٹنی پر لعنت ڈالی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیا۔آپ نے فرمایا کہ اب سامان وغیرہ اس اونٹنی سے اتار لو اور اسے خالی چھوڑ دو۔کیونکہ اب یہ لعنت والی اونٹنی ہو گئی ہے۔اب یہ ہمارے قافلہ کے ساتھ نہ چلے، چنانچہ اس اونٹنی کو چھوڑ دیا گیا۔اس طرح آپ نے کس مؤثر اور پر حکمت انداز میں جانوروں کو گالی دینے سے بھی منع فرما دیا۔(مسلم (3) عرب لوگ اپنے جانوروں پر نشان لگانے کیلئے ان کے جسم گرم لوہے سے داغا کرتے تھے۔نبی کریم ﷺ نے مختلف مواقع پر اونٹ، گدھے وغیرہ کو دیکھا جن کے چہرے یا ناک وغیرہ کو داغا گیا تھا۔آپ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا اور