اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 450 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 450

اسوہ انسان کامل 450 اہلی زندگی میں رسول کریم کا بہترین نمونہ حضرت عائشہ کا ہار ایک سے زیادہ مرتبہ گم ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ایک ایسے ہی موقعے پر آنحضرت نے کمال شفقت سے حضرت عائشہ کے ہار کی تلاش میں کچھ لوگ بھجوائے۔اسلامی لشکر کو اس جگہ پڑاؤ کرنا پڑا جہاں پینے کے لئے پانی میسر تھا نہ وضو کے لئے۔ایسی صورت میں حضرت عائشہ کے والد حضرت ابو بکر بھی ان سے ناراض ہو گئے اور سختی سے فرمانے لگے۔عائشہ ؟ تم ہر سفر میں ہی مصیبت اور تکلیف کے سامان پیدا کرتی ہو۔" ( الحلبیہ ( 36 مگر آنحضرت نے کبھی ایسے موقع پر حضرت عائشہ کو جھڑ کا تک نہیں خواہ ان کی وجہ سے آپ کو پورے لشکر کے گوچ کا پروگرام بدلنا پڑا اور تکلیف بھی اٹھانی پڑی۔گھر میں تو دلداری کے ایسے نظارے اکثر و بیشتر دیکھنے میں آتے تھے۔عید کی رونق عید کا دن ہے حضرت عائشہ کے گھر میں کچھ بچیاں دف بجا کر جنگ بعاث کے نغمے گا رہی ہیں۔اتنے میں حضرت ابو بکر تشریف لاتے ہیں اور اپنی بیٹی حضرت عائشہ کو ڈانٹتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے گھر میں یہ گانا بجانا کیسا؟ آنحضرت یہ حضرت عائشہ کی طرفداری کرتے ہوئے فرماتے ہیں اے ابوبکر ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے آج مسلمانوں کی عید ہے ان بچیوں کو خوشی کر لینے دو۔( بخاری ) 37 ایک اور عید کے موقع پر اہل حبشہ مسجد نبوی کے وسیع دالان میں جنگی کرتب دکھا رہے تھے۔رسول اللہ حضرت عائشہ سے فرماتے ہیں کہ کیا تم بھی یہ کرتب دیکھنا پسند کرو گی اور پھر ان کی خواہش پر انہیں اپنے پیچھے کھڑا کر لیتے ہیں۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں دیر تک آپ کے پیچھے کھڑی رہی اور آپ کے کندھے پر ٹھوڑی رکھے آپ کے رخسار کے ساتھ رخسار ملا کے یہ کھیل دیکھتی رہی آپ میرا بوجھ سہارے کھڑے رہے۔یہاں تک کہ میں خود تھک گئی۔آپ فرمانے لگے اچھا کافی ہے تو پھر اب گھر چلی جاؤ۔( بخاری )38 حضرت عائشہ یہ واقع سنا کر فرمایا کرتی تھیں کہ نوعمر لڑکیوں کو کھیل تماشا کا شوق ہوتا ہے۔دیکھو آنحضرت ﷺ ان کے جذبات کا کتنا لحاظ رکھتے تھے اور ان کی ہر جائز خواہش پورا کرنے میں کوئی تامل نہیں فرماتے تھے۔ہر چند کہ عائشہ سے شادی کے وقت عمروں کا تفاوت چالیس برس سے بھی زائد تھا جو بہت سنجیدگی اور تکلف پیدا کر سکتا تھا مگر ایسا نہیں ہوا۔آپ نے حضرت عائشہ کی دل لگی اور ناز برداری کے لئے کبھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول کریم گھر میں تشریف فرما تھے کہ اچانک ہم نے باہر کچھ شور اور بچوں کی آوازیں سنیں۔رسول کریم نے جا کر دیکھا تو ایک حبشی عورت رقص کر رہی تھی۔اور بچے اس کے گرد تھے۔رسول کریم نے مجھے فرمایا عائشہ ؟ تم بھی آکر دیکھ لو۔میں آکر اپنی ٹھوڑی رسول اللہ کے کندھے پر رکھی اور دیکھنے لگی۔کچھ دیر بعد حضور پوچھتے اب دیکھ چکی ہو؟ بس کافی ہے؟ میں کہہ دیتی نہیں ابھی اور دیکھوں گی۔اور میرے دل میں تھا کہ دیکھوں تو سہی یہ کتنا میرے ناز اٹھاتے ہیں۔اتنے میں حضرت عمرؓ آگئے تو بچے بالے ان کو دیکھ کر بھاگ گئے۔رسول کریم نے فرمایا :۔