اسوہء انسانِ کامل — Page 449
449 اہلی زندگی میں رسول کریم کا بہترین نمونہ اسوہ انسان کامل کا وہ کریمانہ سلوک محسوس نہیں کرتی تھی جو اس سے پہلے کبھی بیماری میں آپ فرمایا کرتے تھے۔واقعا فک کے زمانہ میں تو بس اتنا تھا کہ آپ میرے پاس آتے سلام کرتے اور یہ کہ کر کہ کیسی ہو؟ واپس تشریف لے جاتے۔اس سے مجھے سخت تکلیف ہوتی تھی کہ پہلے تو بیماری میں بڑے ناز اٹھاتے تھے اب ان کو کیا ہو گیا ہے؟ ( بخاری )32 حضرت عائشہ کی دلداریاں یوں تو آپ سب بیویوں کی دلداری کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔مگر حضرت عائشہ کم سنی کے علاوہ زیر کی ، ذہانت اور مزاج شناس ہونے کی وجہ سے آپ کی شفقت کا خاص مورد ہوتی تھیں۔فرمایا کرتے تھے کہ عائشہ کی فضیلت باقی بیویوں پر ایسے ہے جیسے ثرید یعنی گوشت والے کھانے کو دوسرے کھانے پر۔بعض دفعہ بیویوں نے اس پر احتجاج کیا تو فرمایا کہ بیویوں میں سے صرف عائشہ ہی ہے جن کے بستر میں بھی مجھے وحی ہو جاتی ہے۔یعنی اس کے ساتھ خدا کا سلوک بھی نرالا ہے۔( بخاری )33 حضرت عائشہ کی نو عمری کی وجہ سے بھی ان کے ساتھ حسن سلوک تھا، حضرت عائشہ خود بیان فرماتی ہیں کہ شادی کے بعد بھی میں آنحضرت کے گھر میں گڑیاں کھیلا کرتی تھی۔میری کچھ سہیلیاں میرے ساتھ کھیلنے آتی تھیں۔حضور کیا ہے گھر میں تشریف لاتے تو وہ آپ کے رعب سے بھاگ جاتیں۔حضور میری خاطر ان کو اکٹھا کر کے واپس گھر لے آتے اور وہ میرے ساتھ کھیلتی رہتیں۔( بخاری )34 پیروں والا گھوڑا رسول کریم ﷺ بیویوں کے ساتھ ان کی دلچسپی اور ان کے معیار کے مطابق باتیں کرنا پسند فرماتے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ ہم کمرے میں تھے ہوا کا جھونکا آیا تو الماری کا وہ پردہ ہٹ گیا جس کے پیچھے میری کھیلنے کی گڑیاں رکھی تھیں۔رسول کریم و دیکھ کر فرمانے لگے۔عائشہ یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا حضور میری گڑیاں ہیں۔حضور اس توجہ سے یہ سب کچھ ملاحظہ فرمارہے تھے کہ گڑیوں کے درمیان میں چمڑے کے دو پروں والا جو ایک گھوڑا آپ نے دیکھا اس کے بارے میں پوچھا کہ عائشہ ان گڑیوں کے درمیان میں کیا رکھا ہے۔میں نے کہا گھوڑا ہے۔آپ پروں کی طرف اشارہ کر کے فرمانے لگے۔اس کے اوپر کیا لگا ہے میں نے کہا اس گھوڑے کے دو پر ہیں۔تعجب سے فرمانے لگے گھوڑے کے دو پر ؟ میں نے کہا آپ نے سنا نہیں کہ سلیمان کے گھوڑوں کے پر ہوتے تھے۔اس پر آنحضرت ہنسے اتنا ہنسے کہ مجھے آپ کے دانت نظر آنے لگے۔(ابوداؤد ) 35 ہار کی گمشدگی سفر میں جو بیوی بھی ہمراہ ہوتی رسول کریم ﷺے اس کے آرام اور دلداری کا خاص خیال رکھتے۔روایات میں