اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 451 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 451

اسوہ انسان کامل 451 اہلی زندگی میں رسول کریم کا بہترین نمونہ لگتا ہے انسانوں اور جنوں میں سے تمام شیطان عمر کے خوف سے بھاگتے ہیں۔( ترمذی ) 39 حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں جب کبھی غصہ میں آجاتی۔رسول کریم اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر دعا کرتے۔اللَّهُمَّ اغْفِرْلَهَا ذَنْبَهَا وَاذْهِبُ غَيْظَ قَلْبِهَا وَاعِدُهَا مِنَ الْفِتَنِ۔اے اللہ !عائشہ کے گناہ بخش دے اور اس کے دل کا غصہ دور کر دے اور اسے فتنوں سے بچالے۔دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ کے غصے ہونے پر حضور ان کی ناک پکڑ کر فرماتے اے ٹویش ( چھوٹی سی عائشہ) یہ دعا کرو۔اَللَّهُمَّ رَبَّ النَّبِيِّ مُحَمَةٍ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَاذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي وَاَجِرْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ کہ اے اللہ! نبی محمد کے رب! میرے گناہ مجھے بخش دے اور میرے دل کا غصہ دور کر دے اور مجھے گمراہ کن فتنوں سے بچالے۔( ابن جوزی) 40 کہانیوں کی بے تکلف مجلس رسول کریم عائشہ کا دل بہلانے کے لئے ہمیں کہانیاں سناتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ایک دفعہ آپ نے حضرت عائشہ کو تیرہ عورتوں کی کہانی بھی سنائی، جنہوں نے ایک دوسرے کو اپنے خاوندوں کے کچے چٹھے خوب کھول کر سنائے مگر ایک عورت ام زرعہ جسے کہانی کے مطابق اس کے خاوند ابوزرعہ نے بعد میں طلاق دے کر اور شادی کر لی تھی۔اس نے اپنے خاوند کی جی بھر کر تعریف کی کہ اس نے مجھے ہر قسم کا آرام پہنچایا اور کھانے کے لئے وافر دیا اور کہا خود بھی کھاؤ اور اپنے والدین کو بھی بھجواؤ۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں پھر رسول کریم نے فرمایا کہ میری اور عائشہ کی مثال ابوزرعہ کی سی ہے۔تم میری ام زرعہ ہو اور میں تمھارا بوزرعہ ہوں۔( بخاری ) 41 دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ نے ایک دفعہ اپنے باپ حضرت ابوبکر کے جاہلیت کے مال و دولت پر فخر کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے پاس کئی لاکھ درہم تھے۔رسول کریم فرمانے لگے۔اے عائشہ ! رہنے بھی دو۔میں تمہارے لئے ایسے ہوں جیسے کہانی میں ابوزرعہ ائم زرعہ کے لئے تھا۔اس پر حضرت عائشہ نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ آپ میرے لئے ابوزرعہ سے کہیں بہتر ہیں۔(حیمی )42 ایک رات حضور نے بیویوں کو کوئی بات سنائی۔تو ایک بیوی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے عرب محاورہ کے مطابق عرض کیا ایسے لگتا ہے کہ یہ خرافہ والی بات ہے یعنی بے سروپا کہانی۔اس پر رسول کریم نے ایک کہانی سنائی۔فرمایا تمہیں پتہ ہے خرافہ کون تھا؟ خرافہ ایک آدمی تھا جسے جاہلیت میں کسی جن قوم نے قید کر لیا اور وہ ان میں ایک زمانے تک رہا۔پھر انہوں نے اسے اس کے لوگوں کے علاقہ کی طرف واپس لوٹا دیا۔خرافہ واپس آکر اپنی اسیری کے زمانے کے قصے اور عجیب و غریب باتیں سنایا کرتا تھا۔اس سے ہر عجیب و غریب بات کیلئے حدیث خرافہ کا محاورہ مشہور ہو گیا۔“ ( احمد )43 دعوت طعام میں بیوی کی معیت رسول کریم ﷺ کو عائشہ کے جذبات واحساسات کا جس قدر خیال ہوتا تھا، اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا