اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 448 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 448

448 اہلی زندگی میں رسول کریم کا بہترین نمونہ اسوہ انسان کامل حضرت عائشہ ” جیسی مزاج شناس بیوی آپ کی تیمارداری کرے آپ نے باری کی تقسیم مقدم رکھی۔البتہ حضرت عائشہ کی باری کی تمنا کرتے ہوئے بار بار پوچھتے ضرور رہے کہ کل میری باری کہاں ہے؟ یہاں تک کہ بیویوں نے خود ہی عائشہ کے گھر میں آپ کو تیمار داری کی اجازت دی۔( بخاری )28 الغرض ہمارے آقا و مولیٰ ﷺ جو تقویٰ کے بلند اور روشن مینار پر فائز تھے۔بسا اوقات اس خیال سے کہ دل کے جذبوں اور طبعی میلان پر تو کوئی اختیار نہیں اس لئے اگر سب بیویوں کے برابر حقوق ادا کرنے کے بعد بھی میلان طبع کسی بیوی کی جانب ہو گیا تو کہیں میرا مولیٰ مجھ سے ناراض نہ ہو جائے۔اتنے مخلصانہ عدل اور منصفانہ تقسیم کے بعد بھی آپ یہ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ تو جانتا ہے اور دیکھتا ہے کہ انسانی حد تک جو برابر منصفانہ تقسیم ہوسکتی تھی وہ تو میں کرتا ہوں اور اپنے اختیار سے بری الذمہ ہوں۔میرے مولیٰ اب دل پر تو میرا اختیار نہیں اگر قلبی میلان کسی کی خوبی اور جو ہر قابل کی طرف ہے تو تو مجھے معاف فرمانا۔(ابوداؤد ) 29 محبت والفت کی ادائیں اسلام سے پہلے عورت کی ناقدری اور ذلت کا ایک اور پہلو یہ تھا کہ اپنے مخصوص ایام میں اسے سب گھر والوں سے جدار رہنا پڑتا تھا۔خاوند کے ساتھ بیٹھنا تو درکنار اہل خانہ بھی اس سے میل جول نہ رکھتے تھے۔(مسلم ) 30 آنحضرت ﷺ نے اس معاشرتی برائی کو دور کیا اور آپ کی شریعت میں یہ حکم اترا کہ حیض ایک تکلیف دہ عارضہ ہے ان ایام میں صرف ازدواجی تعلقات کی ممانعت ہے عام معاشرت ہر گز منع نہیں۔(سورۃ البقرہ: 223) چنانچہ آنحضور بیویوں کے مخصوص ایام میں ان کا اور زیادہ لحاظ فرماتے۔ان کے ساتھ مل بیٹھتے۔بستر میں ان کے ساتھ آرام فرماتے اور ملاطفت میں کوئی کمی نہ آنے دیتے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایام مخصوصہ میں بھی بسا اوقات ایسا ہوتا کہ میرے ساتھ کھانا تناول کرتے ہوئے حضور گوشت کی ہڈی یا بوٹی میرے ہاتھ سے لے لیتے اور بڑی محبت کے ساتھ اس جگہ منہ رکھ کر کھاتے جہاں سے میں نے اسے کھایا ہوتا تھا۔میں کئی دفعہ پانی پی کر برتن حضور کو پکڑا دیتی تھی۔حضور وہ جگہ ڈھونڈ کر جہاں سے میں نے پانی پیا ہوتا تھا وہیں منہ رکھ کر پانی پیتے تھے۔(ابوداؤد 31 ) اور یہ آپ کے پیار کا ایک انوکھا اور ادنی سا اظہار ہوتا تھا۔بیماری میں اہل خانہ کا خیال بیویوں میں سے کوئی بیمار پڑ جاتی تو آپ بذات خود اس کی تیمارداری فرماتے۔تیمارداری کا یہ سلوک کس قدر نمایاں اور نا قابلِ فراموش ہوتا تھا اس کا اندازہ حضرت عائشہ کی ایک روایت سے ہوتا ہے۔آپ فرماتی ہیں کہ واقعہ افک میں الزام لگنے کے زمانہ میں ، اتفاق سے میں بیمار پڑ گئی۔تو اس وقت تک مجھے اپنے خلاف لگنے والے الزامات کی کوئی خبر نہ تھی ، البتہ ایک بات مجھے ضرور کھنکتی تھی کہ ان دنوں میں میں آنحضرت ﷺ کی طرف سے محبت اور شفقت بھرا تیمارداری