اسوہء انسانِ کامل — Page 435
435 رسول کریم کی بچوں اور اولاد سے پدرانہ شفقت اسوہ انسان کامل نبی کریم فرماتے تھے کہ فاطمہ میرے بدن کا ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ کچھ غلام آئے۔حضرت فاطمہ گھر کی ضرورت کے لئے خادم مانگنے آئیں نبی کریم گھر پر نہیں تھے۔جب تشریف لائے اور انہیں پتہ چلا کہ فاطمہ آئی تھیں تو سردی کے موسم میں اسی وقت حضرت فاطمہ کے گھر تشریف لے گئے۔حضرت فاطمہ بیان کرتی ہیں کہ ہم بستر میں جاچکے تھے۔حضور میرے پاس تشریف فرما ہوئے۔میں نے آپ کے پاؤں کی ٹھنڈک محسوس کی۔آپ فرمانے لگے خادم تو زیادہ ضرورت مندوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔پھر حضرت فاطمہ اور حضرت علی کو تسلی دلاتے ہوئے فرمایا کہ تم نے جو خادم کا مطالبہ کیا تھا کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں ؟ تم لوگ جب سونے لگو تو چونتیس مرتبہ اللہ اکبر اور تینتیس تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور الحمداللہ کا ورد کیا کرو۔یہ تمہارے لئے اس سے کہیں بہتر ہے جو تم نے مانگا ہے۔( بخاری ) 35 اولاد سے حقیقی پیار اور اعلیٰ تربیت نبی کریم کو اپنی اولاد کی تربیت کا اتنا خیال تھا کہ ایک دفعہ تہجد کے وقت حضرت علی اور فاطمہ کو سوتے پایا تو جگا کر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تم لوگ تہجد کی نماز نہیں پڑھتے ہو۔حضرت علی نے نیند کے غالب آنے کا عذر کیا تو آنحضور تعجب کرتے ہوئے واپس تشریف لائے اور سورۃ کہف کی وہ آیت پڑھی جس کا مطلب ہے کہ انسان بہت بحث کرنے والا ہے۔( بخاری )36 حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم چھ ماہ تک با قاعدہ حضرت فاطمہ کے گھر کے پاس سے گزرتے ہوئے انہیں صبح نماز کے لئے جگاتے اور فرماتے تھے کہ اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ تمہیں مکمل طور پر پاک وصاف کرنا چاہتا ہے۔حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ حضرت فاطمہ ( حضور کی بیماری میں ) آئیں نبی کریم نے فاطمہ کو خوش آمدید کہا اور اپنے دائیں طرف یا شاید بائیں طرف بٹھایا۔حضرت فاطمہ کو بھی رسول کریم سے بہت محبت تھی۔رسول اللہ کی وفات پر حضرت فاطمہ کی زبان سے جو جذباتی فقرے نکلے، ان سے بھی آپ کی گہری محبت کا اظہار ہوتا ہے ، آپ نے حضرت انسؓ سے کہا کہ وائے افسوس میرے ابا ! ہم آپ کی موت کا افسوس کس سے کریں ؟ کیا جبریل سے؟ وائے افسوس! ہمارے ابا ! آپ اپنے رب کے کتنے قریب تھے ! ہائے افسوس! ہمارے ابا ہمیں داغ جدائی دے کر چلے گئے جنہوں نے جنت الفردوس میں گھر بنا لیا۔ہائے افسوس! میرے ابا ! جنہوں نے اپنے رب کے بلانے پر لبیک کہا اور اس کے حضور حاضر ہو گئے۔(ابن ماجہ ) 37 بیٹیوں کی اولاد سے شفقت حضرت ابولیلی بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم کی خدمت میں حاضر تھے۔کم سن حضرت حسن یا حسین میں سے کوئی آپ کی گود میں چڑھا ہوا تھا۔اچانک بچے نے پیشاب کر دیا اور میں نے حضور کے پیٹ پر پیشاب کے نشان