اسوہء انسانِ کامل — Page 434
434 رسول کریم کی بچوں اور اولاد سے پدرانہ شفقت اسوہ انسان کامل صاحبزادی رقیہ کی وفات کے بعد رسول اللہ نے اپنی بیٹی ام کلثوم بھی حضرت عثمان سے بیاہ دی اس موقع پر آپ نے اپنی خادمہ اُم ایمن سے فرمایا کہ میری بیٹی کو تیار کرو اور اسے دلہن بنا کر عثمان کے پاس لے جاؤ۔اور اس کے آگے دف بجاتی جانا، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔نبی کریم تیسرے دن اُم کلثوم کے پاس آئے اور استفسار فرمایا کہ آپ نے اپنے شوہر کو کیسا پایا؟ عرض کیا بہترین شوہر۔نبی کریم نے فرمایا ! امر واقعہ یہ ہے کہ تمہارے شوہر لوگوں میں سے سب سے زیادہ تمہارے جد امجد ابراہیم اور تمہارے باپ محمد سے مماثلت رکھتے ہیں۔(ابن عدی ) 32 حضرت ام کلثوم 9ھ میں فوت ہوئیں حضور نے ان کا جنازہ خود پڑھایا اور قبر کے کنارے تشریف فرما ہو کر اپنی موجودگی میں تدفین کر وائی۔رسول کریم نے اپنی صاحبزادی اُم کلثوم کی وفات پر تجہیز و تکفین کا انتظام اپنی نگرانی میں کروایا۔حضرت لیلی اشتفیہ روایت کرتی ہیں کہ میں ان عورتوں میں شامل تھی جنہوں نے حضرت ام کلثوم کو ان کی وفات پر غسل دیا۔رسول کریم نے نہ بند کے لئے کپڑا دیا پھر قمیص، اوڑھنی اور اوپر کا کپڑ ا۔اس کے بعد ان کو ایک اور کپڑے میں لپیٹ دیا گیا۔وہ بتاتی تھیں کہ غسل کے وقت رسول کریم دروازے کے پاس کھڑے تھے۔حضور کے پاس سارے کپڑے تھے اور آپ باری باری ہمیں پکڑا ر ہے تھے۔حضرت ابوامامہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول کریم کی بیٹی ام کلثوم قبر میں رکھی گئی تو رسول خدا نے یہ آیت تلاوت كى مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرى (سورة طه: 56) یعنی اس سے ہی ہم نے تم کو پیدا کیا اور اس میں تمہیں دوبارہ لوٹائیں گے اور اسی سے تمہیں دوسری دفعہ نکالیں گے۔پھر جب آپ کی لحد تیار ہوگئی تو نبی کریم قبر بنانے والوں کو مٹی کے ڈھیلے اٹھا کر دیتے تھے اور فرماتے تھے ان سے اینٹوں کی درمیانی در زیں بند کرو پھر فرمانے لگے کہ مردے کے لئے ایسا کرنے کی کوئی ضرورت تو نہیں لیکن اس سے زندہ لوگوں کے دل کو ایک اطمینان ضرور حاصل ہو جاتا ہے۔(احمد ) 33 حضرت فاطمہ سے محبت و شفقت نبی کریم اپنی صاحبزادی فاطمتہ الزھراء سے بھی شفقت کا سلوک فرماتے تھے۔نبی کریم کی محبت بھری تربیت کا اثر تھا کہ حضرت فاطمہ نہیں بھی وہی رنگ جھلکتا نظر آتا تھا۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے چال ڈھال، طور اطوار اور گفتگو میں حضرت فاطمہ سے بڑھ کر آنحضرت کے مشابہ کوئی نہیں دیکھا۔فاطمہ جب حضور کی خدمت میں حاضر ہوتی تھیں تو حضور کھڑے ہو جاتے تھے محبت سے انکا ہاتھ تھام لیتے تھے اور اسے بوسہ دیتے اور اپنے ساتھ بٹھاتے اور جب آنحضور حضرت فاطمہ کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ بھی احترام میں کھڑی ہو جاتیں آپ کا ہاتھ تھام کر اسے بوسہ دیتیں اور اپنے ساتھ حضور کو بٹھا تھیں۔(ابوداؤد )34