اسوہء انسانِ کامل — Page 436
اسوہ انسان کامل 436 رسول کریم کی بچوں اور اولاد سے پدرانہ شفقت دیکھے۔ہم لپک کر بچے کی طرف آگے بڑھے تا کہ اسے اُٹھا لیں۔رسول اللہ نے فرمایا میرے بیٹے کو میرے پاس رہنے دو اور اسے ڈراؤ نہیں پھر آپ نے پانی منگوا کر اس پر انڈیل دیا۔( احمد ) 38 حضرت یعلی عامری سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ کے ساتھ ایک دعوت پر جارہے تھے کہ سامنے سے کم سن حسین دیگر بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے نظر آئے۔رسول اللہ نے کھیل کھیل میں ان کو پکڑنا چاہا تو وہ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔رسول کریم اس طرح ان کو ہنساتے رہے یہاں تک کہ ان کو پکڑ لیا۔پھر آپ نے اپنا ایک ہاتھ ان کے سر کے پیچھے اور دوسرا ان کی ٹھوڑی کے نیچے رکھا اور اپنا منہ ان کے منہ پر رکھ کر انہیں چومنے لگے اور فرمایا حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں ( یعنی میرا ان سے گہرا دلی تعلق ہے ) جو شخص حسین سے محبت کرتا ہے اللہ اس سے محبت کرتا ہے۔حسین ہماری نسل ہے۔(حاکم) 39 حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کی پشت پر حسن اور حسین سوار تھے اور آپ اپنے ہاتھوں اور ٹانگوں کے بل چل رہے تھے اور ان بچوں سے باتیں کر رہے تھے کہ تمہارا اونٹ کتنا اچھا ہے اور تم دونوں سوار بھی کیسے خوب ہو۔( ھیثمی ) 40 حضرت زینب کے بچوں سے بھی حضور کو بہت محبت تھی۔حضرت زینب کے ایک بیٹے کم سنی میں وفات پاگئے ان کی حالت نزع کے وقت حضرت زینب نے حضور کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ میرے بیٹے کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔آپ تشریف لے آئیں۔نبی کریم نے ہر قسم کے مشرکانہ خیال سے بچنے کے لئے یہ پیغام بھیجا کہ زینب کو میر اسلام پہنچا دو اور کہو جو کچھ اللہ لے لے وہ بھی اسی کا ہے اور جو وہ عطا کرے اس کا بھی وہی مالک ہے اور ہر شخص کے لئے اللہ کے پاس ایک میعاد مقرر ہے اس لئے صبر کرو اور اپنے خیالات خدا کی خاطر پاک کرلو۔( بخاری ) 41 حضرت ابوقتادہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز کے انتظار میں تھے۔بلال نے رسول اللہ کو نماز کی اطلاع کی آپ تشریف لائے۔آپ کی نواسی امامہ بنت ابی العاص آپ کے کاندھے پر تھی۔رسول اللہ اپنے مصلے پر کھڑے ہوئے ہم پیچھے کھڑے تھے اور وہ بچی حضور کے کندھے پر ہی تھی۔حضور کی تکبیر کے ساتھ ہم نے بھی تکبیر کہی۔رکوع میں جاتے وقت حضور نے ان کو کندھے سے اتار کر نیچے بٹھادیا رکوع اور سجدے سے فارغ ہو کر پھر اسے اُٹھا کر کندھے پر بٹھالیا۔نماز کی ہر رکعت میں ایسے ہی کیا۔یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہوئے۔(ابوداؤد )42 ایک دفعہ نجاشی شاہ حبشہ کی طرف سے کچھ زیورات بطور تحفہ آئے ، ان میں ایک انگوٹھی تھی جس کا نگینہ ملک حبشہ کا تھا۔آپ نے عدم دلچسپی کے اظہار کے طور پر اسے لکڑی یا انگلی سے پرے کیا۔پھر امامہ کو بلایا اور فرمایا بیٹی ! یہ تم پہن لو۔(ابوداؤد ) 43