اسوہء انسانِ کامل — Page 30
اسوۃ انسان کامل 30 سوانح حضرت محمد علی اصحاب کے ساتھ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں۔جسے عملی طور پر پورا کرنے کی خاطر آپ نے صحابہ کوعمرہ کا حکم دیا اور ذوالقعدہ 6ھ میں چودہ سوصحابہ کے ہمراہ پر امن مقصد کے لئے تلواریں نیام میں لئے جو عربوں کے لباس کا حصہ تھیں مکہ روانہ ہوئے۔مکہ کے قریب پہنچ کر پتہ چلا کہ قریش مسلمانوں کو زبردستی عمرہ سے روکنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے اپنے سفیر بھجوا کر مصالحت کی کوشش کی مگر وہ ناکام ہوگئی۔ناچار آپ نے حدیبیہ کے مقام پر پڑاؤ کیا اور دوبارہ حضرت عثمان کو سفیر بنا کر بھجوایا جن کی واپسی میں تاخیر ہونے سے ان کی شہادت کی افواہ مشہور ہو گئی۔رسول کریم اللہ نے اس موقع پر کیکر کے درخت کے نیچے اپنے صحابہ کو جمع کر کے موت پر بیعت لی کہ وہ حضرت عثمان کی شہادت کا بدلہ لئے بغیر یہاں سے نہیں جائیں گے۔( بخاری ) 75 قریش کو پتہ چلا تو انہوں نے حضرت عثمان کی نظر بندی ختم کر کے واپس بھجوا دیا۔اس دوران مسلمانوں کا جوش و جذ بہ دیکھ کر انہیں صلح کی کچھ تحریک ہوئی اور با ہم سفارت کے نتیجہ میں بالآخر اس بات پر دس سال کے لئے معاہدہ صلح حدیبیہ طے پایا۔جس کی موٹی شرائط یہ تھیں:۔1 مسلمان اس سال کی بجائے آئندہ سال عمرہ کریں۔2۔اگر قریش میں سے کوئی شخص اپنے ولی کی اجازت کے بغیر مسلمانوں کے پاس مدینہ چلا جائے تو اسے قریش کو واپس کیا جائے گا۔لیکن کوئی مسلمان قریش کے پاس آجائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔3۔دونوں فریق اپنے حلیفوں کی مدد کے پابند ہوں گے۔باوجود یکہ شرائط صلح طے ہونے کے دوران کفار کا رویہ سخت تلخ رہا۔پھر بھی رسول کریم ﷺ نے ہر حال میں صلح کو جنگ پر ترجیح دی۔حتی کہ معاہدہ طے ہونے سے قبل جب مکہ کا ایک مظلوم پابند سلاسل ابو جندل قید کی زنجیریں توڑ کر مسلمانوں کی پناہ میں آیا تو نمائندہ قریش سہیل نے اسے واپس کرنے پر اصرار کیا اور مسلمانوں کو صلح کی خاطر یہ سخت کڑی شرط بھی تسلیم کرنا پڑی۔سہیل اسے مارتا ہوا واپس مکہ لے گیا اور مسلمان اس درد ناک منظر کو دیکھ کر بے تاب ہو گئے۔ان حالات میں حضرت عمر جیسے بہادر انسان کو بھی ابتلاء آ گیا اور انہوں نے رسول کریم ﷺ اور حضرت ابو بکر سے پوچھا کہ کیا ہم حق پر نہیں؟ حضرت عمر نے بعد میں اپنے اس سوال پر نادم ہو کر بہت نوافل اور صدقات ادا کئے۔( بخاری ) 76 الغرض اس صلح کی بظاہر مشکل شرائط کی وجہ سے مسلمان سخت غمگین تھے کہ انہیں طواف کئے بغیر واپس جانا پڑ رہا ہے۔چنانچہ اس کیفیت میں جب رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو میدان حدیبیہ میں قربانی کے جانور ذبح کرنے کا حکم دیا تو مارے غم کے وہ سکنہ کے عالم میں آگئے اور انہیں کچھ سجھائی نہ دیتا تھا۔تب رسول کریم ﷺ کو ام المؤمنین حضرت ام سلمہ نے مشورہ دیا کہ آپ کے صحابہ نافرمان نہیں۔ان پر غم کا اثر غالب ہے آپ اپنی قربانی ذبح کریں پھر دیکھیں وہ کس طرح اطاعت کرتے ہیں۔اور واقعی رسول کریم ﷺ کا اپنی قربانی کو بیچ کرنا تھا کہ تمام صحابہ دھڑا دھڑ