اسوہء انسانِ کامل — Page 29
اسوہ انسان کامل 29 سوانح حضرت محمد علی محاصرہ کے ان ایام میں ایک طرف مسلمان کم تعداد کی وجہ سے دن رات کی سخت ڈیوٹی کی وجہ سے تھکاوٹ سے چور ہوتے تھے تو دوسری طرف بنو قریظہ کی غداری کی وجہ سے عورتوں اور بچوں کی حفاظت کے لئے پہرہ کا الگ انتظام کرنا پڑتا تھا۔تیسری طرف کفار جہاں ذرا کمزور جگہ پاتے اکٹھے ہو کر حملہ آور ہونے کی کوشش کرتے۔خندق پار کرنے کی انہی کوششوں کے دوران عرب کے مشہور پہلوان عمرو کا مقابلہ حضرت علیؓ نے رسول کریم ﷺ کی عطا فرمودہ تلوار اور دعا سے کیا اور انجام کارا سے مار گرایا۔اس کے باوجود محاصرہ کے لمبا ہونے سے مسلمانوں کی طاقت کمزور پڑتی جاتی تھی۔اسی دوران ایک ایسا وقت بھی آیا کہ رسول کریم ﷺ اپنے صحابہ کی تکلیف دیکھ کر انصار سرداروں سے مشورہ پر مجبور ہوئے کہ بنو غطفان کو مدینہ کی کچھ پیدا وار دینے پر مصالحت کر کے قریش سے الگ کر لیا جائے۔مگر انصار نے کمال جرات کا اظہار کرتے ہوئے مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔دوسری طرف رسول کریم ﷺ کی دن رات دعاؤں کے طفیل اللہ تعالیٰ نے قبیلہ غطفان کے ایک شخص نعیم بن مسعود کو یہود اور قریش میں پھوٹ ڈالنے کا ذریعہ بنا دیا۔قریش بھی لمبے محاصرہ سے تنگ آچکے تھے۔جس رات وہ تمام قبائل کے ساتھ مل کر مدینہ پر ایک لخت حملہ کرنا چاہتے تھے اسی رات اللہ تعالیٰ نے نہایت تیز سخت آندھی سے سخت پریشانی کی صورت پیدا کر دی۔ان کے خیمے اکھڑ گئے ہنڈیاں الٹ گئیں۔آگئیں بجھ گئیں اور ریت اور کنکریوں کی بارش نے ان کے کان اور نتھنے بھر دیے۔تو ہم پرست کفار یہ سب دیکھ کر اتنے مرعوب ہوئے کہ ابوسفیان نے لشکر کو کوچ کا حکم دے دیا۔( ابن ہشام) 73 اخراج بنو قریظہ جنگ احزاب کے بعد یہود بنو قریظہ کو ان کی غداری کی سزا دینی لازم تھی۔اس لئے دشمن کی پسپائی کے بعد رسول کریم علیہ نے بنو قریظہ کے قلعوں کا محاصرہ کیا جنہوں نے حضرت سعد بن معاذ کو اپنا ثالث مانتے ہوئے معاملہ ان کے سپر د کر دیا۔حضرت سعد نے توریت کے مطابق بد عہد دشمن پر غلبہ پانے کے بعد اس معاملہ کے متعلق یہ فیصلہ سنایا کہ ان کے لڑائی میں شامل مرقتل کئے جائیں اور عورتیں بچے قید کر لئے جائیں اور اموال مسلمانوں میں تقسیم ہوں۔( بخاری ) 74 رسول کریم ﷺ کے لئے حضرت سعد کا یہ فیصلہ تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔اے کاش! بنو قریظہ بھی رحمۃ للعالمین ﷺ کو اپنا حاکم مانتے تو بنو قینقاع اور بنو نضیر کی طرح آپ کی رحمت سے حصہ پاتے۔اور اپنی عہد شکنی اور مجرمانہ ریشہ دوانیوں کی سزا سے بچ جاتے۔غزوہ حدیبیہ غزوہ احزاب کے بعد اہم واقعہ صلح حدیبیہ کا تھا۔رسول کریم ﷺ نے ایک رؤیا میں دیکھا کہ آپ اپنے