اسوہء انسانِ کامل — Page 31
اسوۃ انسان کامل 31 سوانح حضرت محمد علی 77 اپنی قربانیاں ذبح کرنے لگے۔یہ یقینا جذبات اور نفوس پر حاصل ہونے والی ایسی عظیم فتح تھی جو بعد میں فتح خیبر و مکہ کا پیش خیمہ بن گئی۔چنانچہ حدیبیہ سے واپسی پر رسول کریم ﷺ پر سورۃ الفتح کی ابتدائی آیات اتریں جن میں ذکر ہے کہ یقیناً ہم نے تمہیں کھلی کھلی فتح عطا کی ہے۔( بخاری ) پھر واقعی حدیبیہ کی بظاہرمشکل شرائط مسلمانوں کے لئے ایسی مفید ثابت ہوئیں کہ مسلح وامن کے اس زمانہ میں وہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگے۔چنانچہ حدیبیہ میں مسلمانوں کی تعداد چودہ سوتھی۔جو دو سال سے کم عرصہ میں فتح مکہ تک دس ہزار ہوگئی۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام کی اشاعت کا اصل ذریعہ تلوار نہیں بلکہ محبت سے اس پیغامِ امن کی اشاعت کرنا ہے۔شاہان مملکت کو خطوط اسی زمانہ ء امن میں رسول کریم ﷺ نے شاہ روم ، شاہ ایران ،شاہ مصرا اور شاہ حبشہ کو بھی تبلیغی خطوط لکھ کر قبول اسلام کی دعوت دی۔اس کے عظیم الشان نتائج برآمد ہوئے۔(ابن سعد ) 78 قیصر روم کو اس خط کے بعد رسول کریم علیہ کے مزید حالات جاننے کی طرف توجہ ہوئی اور اس نے بغرض تجارت شام گئے ہوئے قریش کے سردار ابوسفیان کو اپنے دربار میں بلوا کر اس بارہ میں بڑے اہم سوال کئے اور پھر ان کے جوابات پر ایسے عالمانہ اور شاندار تبصرے کئے جو رسول کریم ﷺ کی صداقت کے لئے واضح اشارے تھے۔آخر میں شاہ روم نے کہا کہ اگر میں اس نبی کے پاس ہوتا تو اس کے پاؤں دھونے میں فخر محسوس کرتا۔ایک روز وہ نبی اس سرزمین پر غالب آجائے گا۔ابوسفیان یہ سن کر باہر آیا تو بے اختیار کہہ اٹھا کہ محمد ﷺ کا ستارہ تو بہت بلند معلوم ہوتا ہے۔روما کا بادشاہ بھی اس سے خوف کھانے لگا ہے“۔بہر حال ہر قل کے دل کی گہرائیوں میں رسول کریم ﷺ کی صداقت گھر کر چکی تھی مگر اپنے مصاحبوں اور درباریوں کے دباؤ کی وجہ سے وہ اپنی دلی خواہش پوری نہ کر سکا۔تاہم اس نے رسول کریم ﷺ کا خط سنہری رومال میں لپیٹ کر متبرک تحفہ کے طور پر ایک سنہری ڈبے میں محفوظ کر دیا جو کئی سو سال بعد تک محفوظ رہا۔( بخاری ) 79 شاہ ایران کسری کو بھجوائے گئے تبلیغی خط کا رد عمل اس کے برعکس ہوا۔اس نے رسول کریم ﷺ کے خط کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کہا کہ میرا غلام ہو کر مجھے اس طرح مخاطب کر رہا ہے۔بعد میں یہودی سازش کے نتیجہ میں اس نے یمن کے گورنر باذان کو رسول کریم ﷺ کی گرفتاری کا حکم دیا۔مکتوب نبوی کے پھاڑنے کی اطلاع پر رسول کریم ﷺ نے غیرت دینی کے جوش سے فرمایا تھا ”خدا اسے پارہ پارہ کرے اور جب گورنر یمن کے قاصد حضور ﷺ کوگرفتار کرنے آئے تو آپ نے انہیں اس رات انتظار کرنے کو کہا۔اگلی صبح آپ نے خدا سے علم پا کر فرمایا کہ میرے رب نے آج تمہارے رب یعنی کسری کو قتل