اسوہء انسانِ کامل — Page 431
431 رسول کریم کی بچوں اور اولاد سے پدرانہ شفقت اسوہ انسان کامل کی۔آپ تشریف لائے ، آپ کی نواسی امامہ بنت ابی العاص آپ کے کاندھے پر تھی۔رسول اللہ اپنے مصلے پر کھڑے ہوئے ہم پیچھے کھڑے تھے اور وہ بچی حضور کے کندھے پر ہی تھی۔حضور کے تکبیر کہنے کے ساتھ ہم نے بھی تکبیر کہی۔رکوع میں جاتے وقت حضور نے ان کو کندھے سے اتار کر نیچے بٹھا دیا۔رکوع اور سجدہ سے فارغ ہوکر دوبارہ اٹھا کر اسے کندھے پر بٹھا لیا۔آپ نے نماز کی ہر رکعت میں ایسے ہی کیا یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہوئے۔(ابوداؤد ) 14 رسول کریم کی زندہ رہنے والی اولاد حضرت خدیجہ کے بطن سے چار بیٹیاں تھیں۔جو بالترتیب حضرت زینب، حضرت رقیہ ، حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ الزھراء ہیں۔حضرت خدیجہ سے بیٹے بھی ہوئے جن کے نام قاسم ، طاہر، طیب عبد اللہ مشہور ہیں۔صاحبزادہ قائم کی نسبت سے آپ کی کنیت ابوالقاسم تھی۔حضرت ماریہ قبطیہ کے بطن سے صاحبزادہ ابراہیم ہوئے جو 9ھ میں 16 ماہ کی عمر میں وفات پاگئے تھے۔رسول کریم نے تمام اولاد سے نہایت محبت اور شفقت کا سلوک فرمایا۔ان کی پرورش اور اعلیٰ تربیت کے حق ادا کئے۔یہی وجہ تھی کہ حضرت زینب اور دیگر بیٹیوں نے اپنی والدہ حضرت خدیجہ کے ساتھ ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔( ابن سعد ) 15 صاحبزادی زینب سے حسن سلوک حضرت زینب کی شادی مکہ ہی میں حضور کے دعوے سے قبل حضرت خدیجہ کی تجویز پر ان کے بھانجے ابوالعاص ابن ربیع سے ہو گئی تھی۔اس لئے حضرت زینب مدینہ ہجرت نہ کر سکیں۔حضرت زینب کے شو ہر ابو العاص غزوہ بدر میں کفار مکہ کی طرف سے شامل ہو کر قید ہوئے۔حضرت زینب نے حضرت خدیجہ کی طرف سے اپنی شادی پر تحفے میں ملنے والا ہار، ان کے فدیہ کے طور پر بھجوایا جسے دیکھ کر نبی کریم کا دل بھر آیا اور آپ کی خواہش کے مطابق ابوالعاص کو فدیہ لئے بغیر اس معاہدہ پر قید سے آزاد کر دیا گیا کہ وہ رسول اللہ کی صاحبزادی حضرت زینب کو مدینہ ہجرت کرنے کی اجازت دے دیں گے۔(ابوداؤد )16 آنحضرت ہی کی اس شفقت اور حکمت عملی کا نتیجہ تھا کہ ابو العاص نے یہ وعدہ خوب نبھایا اور واپس مکے جا کر حضرت زینب کو مدینے جانے کی اجازت دے دی۔کفار مکہ کو پتہ چلا تو انہوں نے تعاقب کیا۔ایک مشرک ھبار بن اسود نے حضرت زینب کی اونٹنی پر حملہ آور ہو کر انہیں اونٹ سے گرا دیا جس سے انکا حمل ساقط ہو گیا۔اور انہیں کچھ عرصہ کیلئے مزید مکہ میں رکنا پڑا۔( بخاری ) 17 رسول اللہ اپنی بڑی صاحبزادی حضرت زینب کے اسلام قبول کرنے کے بعد کمزوری اور مظلومیت کے عالم میں رہنے پر بے چین رہتے تھے۔وعدہ کے مطابق اُن کے شوہر ابوالعاص کی انہیں مدینہ بھجوانے کی کوشش ناکام ہو چکی تھی۔رسول کریم ﷺ نے مزید تکلیف دہ انتظار کی بجائے حضرت زید کو اپنی ایک خاص انگوٹھی نشانی کے طور پر دے کر سکے