اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 432 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 432

432 رسول کریم کی بچوں اور اولاد سے پدرانہ شفقت اسوہ انسان کامل بھجوایا کہ کسی طرح حضرت زینب کو مدینے لے آئیں۔حضرت زید نے حضرت زینب اور ان کے شوہر ابو العاص کے چرواہے کے ذریعے وہ انگوٹھی حضرت زینب تک پہنچادی اسی رات حضرت زینب حضرت زید کی معیت میں اونٹ پر سوار ہو کر مدینے آئیں۔ان کے مدینے پہنچنے پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا میری اس بیٹی نے میری وجہ سے بہت دیکھ اٹھائے ہیں۔یہ اس لحاظ سے باقی بیٹیوں پر زیادہ فضیلت رکھتی ہیں۔( بخاری )18 نبی کریم ﷺ اپنی بیٹی کے ساتھ اپنے داما دا بو العاص کے حسن سلوک کی تعریف فرماتے تھے کہ اس نے اسلام قبول کرنے سے پہلے وعدہ کے مطابق میری بیٹی کو میرے پاس مدینے بھجوا دیا۔( بخاری )19 اسی زمانے میں ایک دفعہ جب شام سے واپسی پر مدینہ کے قریب ابوالعاص کے تجارتی قافلہ کا مسلمانوں کے دستے سے آمنا سامنا ہو گیا اور ان کے مال پر قبضہ کر لیا گیا تو انہوں نے مدینے آکر حضرت زینب سے پناہ چاہی۔ہر چند کہ ابو العاص کے حالت شرک پر قائم رہتے ہوئے مکہ ٹھہر جانے کی وجہ سے حضرت زینب سے جدائی ہو چکی تھی لیکن ان کے احسانات کے عوض انسانی ہمدردی کے طور پر حضرت زینب نے ان کی امان کا اعلان کر دیا۔رسول کریم نے ( جنہوں نے کبھی کسی مسلمان عورت کی امان رڈ نہیں فرمائی ) حضرت زینب کی امان نہ صرف قبول فرمائی بلکہ ابوالعاص کا سارا مال بھی انہیں واپس کروا دیا۔اس احسان کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابوالعاص نے مکہ جا کر قریش کی امانتیں واپس کیں اور مسلمان ہو کر مدینے آگئے۔( ابن ھشام ) 20 نبی کریم نے ابو العاص بن ربیع کے اسلام قبول کرنے پر حضرت زینب کو چھ سال بعد سابقہ نکاح پر ہی اُن کے عقد میں دے دیا۔(ابوداؤد )21 حضرت زینب کی وفات 8ھ میں ہوئی۔نبی کریم نے ان کے غسل اور تجہیز وتکفین کے لئے خود ہدایات فرمائیں۔حضرت ام عطیہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضور تشریف لائے اور ہمیں فرمایا کہ زینب کو تین یا پانچ مرتبہ بیری کے پتے والے پانی سے غسل دو۔اگر تم ضروری سمجھو تو پانچ سے بھی زیادہ مرتبہ نہلا سکتی ہو۔آخر پر کافور بھی استعمال کرنا۔جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا۔وہ کہتی ہیں جب ہم فارغ ہوئے تو حضور کو اطلاع دی۔حضور نے اپنا تہ بند ہمیں دیا اور فرمایا کہ یہ چادر اُن کو بطور زیر جامہ پہناؤ۔ایک اور روایت میں ہے کہ حضور نے فرمایا کہ اس کے بالوں کی تین مینڈھیاں بنانا۔( بخاری )22 نیز فرمایا کہ اسے دائیں پہلو سے اور وضو کی جگہوں سے منسل شروع کرنا۔( بخاری ) 23 حضرت زینب کی وفات پر حضور ان کی قبر میں اُترے آپ غم زدہ تھے۔جب حضور قبر سے باہر نکلے تو غم کا بوجھ کچھ ہلکا تھا۔فرمایا ”میں نے زینب کی کمزوری کو یاد کر کے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ! اس کی قبر کی تنگی اور غم کو ہلکا کر دے اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کر لی اور اس کے لئے آسانی پیدا کر دی ہے۔حضرت زینب کی تدفین کے موقع پر آنحضور ﷺ نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا ”ہمارے آگے بھیجے ہوئے بہترین