اسوہء انسانِ کامل — Page 430
اسوہ انسان کامل 430 رسول کریم کی بچوں اور اولاد سے پدرانہ شفقت لیتے۔( احمد )7 نبی کریم ﷺ ماں کی مامتا کا بہت خیال فرماتے تھے۔ایک دفعہ فرمایا جو شخص ماں اور اس کی اولاد میں جدائی ڈالتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کے پیاروں سے جدا کر دیگا۔ایک دفعہ بحرین سے قیدی آئے ان کو قطار میں کھڑا کیا گیا۔رسول کریم نے دیکھا ایک عورت رور ہی تھی۔آپ نے سبب پوچھا۔وہ کہنے لگی کہ میرا کم سن بچہ عبس قبیلہ کوفروخت کر دیا گیا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی ابواسیڈ سے فرمایا تم سواری لو اور جا کر وہ بچہ قیمت ادا کر کے واپس لاؤ۔ابواسید جا کر وہ بچہ واپس لے آئے۔( بیہقی )8 حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم کے پاس جب کسی ایک جگہ کے قیدی لائے جاتے تو آپ انہیں ایک گھرانے کے سپر د کرتے تاکہ بچے ان سے جدا نہ ہوں۔(ابن ماجہ ) 9 رسول کریم قرآنی ہدایت کے مطابق اولاد کے آنکھوں کی ٹھنڈک بننے کی دعا بھی کرتے تھے اور دلی محبت کے جوش سے ان کی تربیت فرماتے تھے۔حضرت انس بن مالک جو دس سال کی عمر میں رسول اللہ کی خدمت میں آئے کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم سے بڑھ کر بچوں کے ساتھ شفقت کرنے والا اور کوئی نہیں دیکھا۔(بیہقی ) 10 ایک دفعہ رسول اللہ اپنے بچوں کو پیار سے چوم رہے تھے کہ ایک بدوی سردار نے کہا آپ بچوں کو چومتے بھی ہیں۔میرے دس بچے ہیں میں نے تو کبھی کسی کو نہیں چوما۔آپ نے فرمایا اللہ نے تیرے دل سے رحمت نکال لی ہو تو میں کیا کرسکتا ہوں۔( بخاری ) 11 دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم نے اس سردار سے فرمایا جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔بچوں کے ساتھ حضور کی شفقت اور محبت کا یہ عالم تھا کہ بسا اوقات ان کی تکلیف دیکھ کر نماز بھی مختصر کر دیتے آپ فرماتے تھے کہ بعض دفعہ میں نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہوں اور نماز نمی کرنا چاہتا ہوں مگر اچانک کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں اور نماز مختصر کر دیتا ہوں کہ اس بچے کا رونا اس کی ماں پر بہت گراں ہوگا۔( بخاری )12 ایک دفعہ ایک صحابی نے اپنے بیٹے کو کوئی قیمتی تحفہ دیا اور اپنی بیوی کی خواہش پر رسول کریم کو اس پر گواہ بنانے کے لئے حاضر ہوا۔آپ نے اس سے پوچھا کہ کیا سب بچوں کو ایسا ہی ہبہ کیا ہے۔انہوں نے نفی میں جواب دیا۔آپ نے فرمایا پھر ظلم کی اس بات پر میں گواہ نہیں بن سکتا۔( بخاری ) 13 یوں آپ نے اولاد میں بھی عدل کرنے کا سبق دیا۔رسول کریم نے تربیت اولاد کے لئے اپنا بہترین نمونہ پیش فرمایا۔اولاد سے حسن سلوک کے کچھ واقعات بطور نمونہ پیش ہیں۔حضرت ابوقتادہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز کے انتظار میں تھے ، بلال نے رسول اللہ کی خدمت میں نماز کی اطلاع