اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 429 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 429

اسوہ انسان کامل 429 رسول کریم کی بچوں اور اولاد سے پدرانہ شفقت رسول کریم کی بچوں اور اولاد سے پدرانہ شفقت ہمارے نبی کریم کی بعثت جاہلیت کے اس دور میں ہوئی جب ہر قسم کے انسانی حقوق پامال کئے جارہے تھے۔اولا د اور بچوں کے حقوق کا بھی یہ حال تھا۔اگر کچھ بچے افلاس کی وجہ سے پیدائش سے قبل ہی قتل کر دیے جاتے تھے۔تو بعض قبائل میں بچیوں کو زندہ درگور کرنے کا رواج تھا۔رسول کریم نے آکر اولاد کے عزت کے ساتھ زندہ رہنے کا حق قائم کیا۔آپ نے ارشاد فرمایا کہ اپنی اولاد کی بھی عزت کیا کرو۔اور ان کی عمدہ تربیت کرو۔( ابن ماجہ )1 اسی طرح فر مایا کہ والد کا اولاد کے لئے حسنِ تربیت سے بہتر کوئی تحفہ نہیں ہوسکتا۔( احمد )2 پھر رسول کریم نے حسن تربیت کے لئے یہ پر حکمت تعلیم فرمائی کہ پیدائش کے بعد بچے کے کانوں میں اذان اور تکبیر کہی جائے۔اس ارشاد کے ذریعہ دراصل آپ نے یہ پیغام دیا ہے کہ آغاز سے ہی بچوں کے کان میں اللہ رسول کی باتیں پڑنی چاہئیں اور آغاز سے ہی انکی تربیت کا سلسلہ شروع کر دینا چاہئے۔پھر آپ نے ہدایت فرمائی کہ سات سال کی عمر سے بچوں کو نماز پڑھنے کیلئے کہا کرو۔(اس وعظ ونصیحت کے لئے تین سال کا عرصہ دیا ) اور فرمایا کہ اگر دس سال کی عمر میں بچے نماز نہ پڑھیں تو سزا بھی دے سکتے ہو۔(ابوداؤد )3 رسول کریم کا اپنا نمونہ یہ تھا کبھی تربیت کی خاطر بچوں کو سزا نہیں دی۔بلکہ ہمیشہ محبت اور دعا کے ذریعہ ہی ان کی تربیت کی۔آپ اپنے نواسوں بلکہ زیر تربیت بچوں حضرت اسامہ وغیرہ کے لئے بھی دعا کرتے تھے کہ اے اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔( بخاری )4 کچی پدرانہ شفقت کا تقاضا ہے کہ بچوں سے اپنی اولاد کی طرح محبت اور پیار کا سلوک ہو۔ایک دفعہ کسی نے رسول کریم سے سخت دلی کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا اگر نرم دلی چاہتے ہو تو مسکین کو کھانا کھلاؤ اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کرو۔(احمد) 5 حضرت ابوھریرہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول کریم کے پاس کوئی بھی پہلا پھل آتا تو پھلوں میں برکت کی دعا کرتے اور پھر پہلے وہ پھل مجلس میں موجود سب سے چھوٹے بچے کو عطا فرماتے۔(مسلم )6 حضرت عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم حضرت عباس کے بچوں عبد اللہ ، عبید اللہ اور دیگر بچوں کو ایک قطار میں کھڑا کر کے ان کی دوڑ شروع کرواتے اور فرماتے جو سب سے پہلے دوڑ کر مجھ تک پہنچے گا اسے انعام دونگا۔پھر بچے دوڑ کر آپ تک پہنچتے۔کوئی آپ کی پیٹھ پر چڑھتا تو کوئی سینے پر۔آپ ان کو چومتے ان کو اپنے ساتھ چمٹا