اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 405 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 405

اسوہ انسان کامل 405 جنگوں میں رسول اللہ ﷺ کی حکمت عملی ذلیل کر دے تاکہ وہ نا کام واپس جائیں۔ورنہ مدد تو صرف اللہ ہی کی طرف سے آتی ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔( آل عمران : 125 تا 128 ) اور پھر واقعہ میں ایسا ہی ہوا کہ 313 نہتوں سے ایک ہزار کا مسلح لشکر کفار میدان بدر میں شکست فاش کھا گیا۔دشمن کے ستر جنگجو مارے گئے جن میں سے 24 بڑے بڑے سردار تھے۔غزوہ احد میں بھی رسول اللہ نے میدان جنگ میں آگے آگے ایک ماہر قائد لشکر کی طرح خود صف بندی کروائی اور میمنہ و میسرہ خود مقرر فرمایا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” جب تو صبح صبح اپنے اہل کے پاس سے نکل کر صبح صبح اس لئے گیا تھا کہ مومنوں کو جنگ کیلئے ان کی مقررہ جگہوں پر بٹھا دے اور اللہ تیری دعائیں بہت سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔( آل عمران : 122) الغرض رسول اللہ نے دفاعی جنگوں کے لئے کمال حکمت سے اپنے کمزور اور تعداد میں کم بے سروسامان ساتھیوں کو ایک طاقتور مسلح قوم کے مقابلہ کے لئے تیار کیا اور ان پر فتح پائی۔اس میں بے شک اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اور دعاؤں کا کمال بھی تھا۔جس کی برکت سے وہ حکمت عملی آپ کو عطا ہوتی تھی۔جو ہر موقع جنگ پر آپ نے اختیار فرمائی۔آپ کو خوب ادراک تھا کہ جنگ دھو کہ ہوتی ہے۔اور اس میں بار یک حیلہ اور لطیف تدبیر کے ذریعہ فتح حاصل کی جاسکتی ہے رسول اللہ کے غزوات میں ایسی عمدہ تدابیر اور کامیاب حکمت عملی کے بہت خوبصورت نظارے نظر آتے ہیں۔جن میں سے چند ایک کا ذکر یہاں حسب موقع ہوگا۔دشمن کی نقل و حرکت سے باخبر رہنے کی منصوبہ بندی جنگ میں قائد لشکر کا دشمن کی نقل و حرکت اور اس کے منصوبوں سے باخبر ہونا بہترین حکمت عملی ہے جسے بجاطور پر آدھی فتح کہا جاتا ہے۔رسول اللہ اس کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔غزوہ بدر میں پہلے دن پڑا اور سول اللہ نے اپنے چند معتمد اصحاب کو مشرکین کی خبر معلوم کرنے کے لئے بدر کے چشمہ کی جانب بھیجوایا۔مسلمانوں کا غالب گماں یہی تھا کہ ابوسفیان کے قافلہ سے ان کی مڈھ بھیڑ ہوگی۔مکہ سے اس کی حفاظت کیلئے آنے والے لشکر سے مقابلہ کا ارادہ نہیں تھا۔یہ صحابہ چشمہ بدر سے قریش کے ایک غلام کو پکڑ لائے اور اس سے پوچھ کچھ شروع کی۔رسول اللہ نماز پڑھ رہے تھے۔غلام نے بتایا کہ وہ مکہ آنے والے ابو جہل کے لشکر کے ساتھ تھا اور پانی لینے نکلا ہے، مسلمانوں کو یہ بات اچھی نہ لگی وہ اس سے بار بار ابوسفیان کے قافلہ کا پوچھتے ، وہ کہتا مجھے اس کا علم نہیں۔جب مارا پیٹا جاتا تو کہتا اچھا میں ابوسفیان کے بارہ میں بتاتا ہوں۔چھوڑنے پر پھر کہہ دیتا کہ میں ابو جہل کے لشکر کے ساتھ ہوں۔رسول اللہ نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ ” جب وہ سچ بولتا ہے تم اسے مارتے ہو جب جھوٹ بولتا ہے تو اسے چھوڑ دیتے ہو“۔پھر رسول اللہ نے کمال حکمت سے اس سے کچھ معلومات اخذ کیں۔آپ نے پوچھا کہ قریش کی تعداد کیا ہے؟ اس نے کہا بہت زیادہ۔معین تعداد پوچھی تو کہا ” معلوم نہیں۔آپ نے فرمایا اچھا یہ بتاؤ وہ روزانہ کتنے