اسوہء انسانِ کامل — Page 404
اسوہ انسان کامل 404 جنگوں میں رسول اللہ ﷺ کی حکمت عملی غزوات میں رسول اللہ کی حکمت عملی اور بیدار مغزی ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی سے بہترین قائد اور رہنما کی تمام اعلیٰ خصوصیات اپنے اندر رکھتے تھے۔قیادت کی یہ بہترین خوبی آپ نے عملی نمونہ سے ثابت کر دکھائی کہ قوم کا سردار قوم کا خادم ہوتا ہے۔آپ ایک بہترین جرنیل پر انتہائی شجاع اور بہادر تھے اور ہر پر خطر اور مشکل مقام میں خود آگے ہوتے تھے۔جہاں بڑے بڑے بہادروں کے پاؤں اکھڑ جاتے تھے آپ اس مشکل میدان میں بھی ثابت قدم رہتے تھے۔آپ نے جس حالت مظلومیت میں تیرہ سال کی دور میں دشمن کے مظالم پر صبر اور عفو کی تعلیم دیتے ہوئے گزارے۔آپ مذہبی آزادی کے قیام ، عبادت گاہوں کی حرمت اور امن کی خاطر وطن سے بے وطن ہوئے مگر پھر بھی آپ پر جنگ مسلط کر دی گئی۔اس وقت مسلمان دشمن کے ساتھ مقابلہ کے لئے تعداد اپنی کم اور بے سرو سامانی کے باعث ذہنی لحاظ سے قطعا تیار نہ تھے۔پہلی جنگ کے موقع پر بھی دراصل آپ اور آپ کے ساتھی اس تجارتی قافلہ کو روکنے کے لئے نکلے تھے جس کا منافع جنگی مقاصد میں استعمال ہونا تھا اور جس کی حفاظت کے لئے مکہ سے آنے والے لشکر سے اچانک بدر میں مقابلہ ہو گیا۔پڑا من مسلمانوں کی اس وقت کی قلبی کیفیت کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں کھینچا ہے۔کہ " تم چاہتے تھے کہ جس (گروہ) کے پاس ہتھیار نہیں ہیں اس سے تمہاری مٹھ بھیڑ ہو۔اور اللہ چاہتا تھاوہ حق کو اپنے کلمات کے ذریعہ پورا کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔(الانفال : 8) رسول اللہ نے ان حالات میں اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی بشارتوں کے مطابق مومنوں کو اپنے دفاع کے لئے جنگ کی ترغیب دلاتے ہوئے خوشخبری دی کہ اگر تم میں میں ثابت قدم رہنے والے ہوئے تو وہ دوسو پر غالب آئیں گے اور ایک سو ثابت قدم رہنے والے ہوئے تو وہ ایک ہزار پر غالب آئیں گے۔(الانفال: 66) رسول اللہ دعاؤں اور بشارتوں کے بعد خدا تعالیٰ کے وعدوں پر کامل یقین اور بھروسہ رکھتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو ان مشکل اور پُر خطر مقامات کے لئے تیار کرتے تھے۔چنانچہ غزوہ بدر کے موقع پر مسلمانوں کو دشمن کے مقابلہ پر تیار کرنے کے لئے جو موثر خطاب آپ نے فرمایا اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” جب تو مومنوں سے کہہ رہا تھا کہ کیا تمہارے لئے یہ بات کافی نہ ہوگی کہ تمہارا رب آسمان سے نازل کئے ہوئے تین ہزار فرشتوں کے ذریعہ تمہاری مدد کرے۔بلکہ اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو اور وہ کا فرتم پر اسی دم چڑھ آئیں تو تمہارا رب پانچ ہزار سخت حملہ کرنے والے فرشتوں کے ذریعہ تمہاری مدد کرے گا۔اللہ تعالیٰ نے یہ بات تمہارے لئے خوشخبری کے طور پر اور اس لئے کہ تمہارے دل اس کے ذریعہ سے اطمینان پائیں مقرر کی ہے۔تا کہ اللہ تعالیٰ کا فروں کے ایک حصہ کو کاٹ دے یا انہیں