اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 406 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 406

اسوہ انسان کامل 406 جنگوں میں رسول اللہ ﷺ کی حکمت عملی ہیں۔اونٹ ذبح کرتے ہیں؟ کہنے لگا کبھی نو اور کبھی دس۔آپ نے کیا خوب اندازہ فرمایا کہ یہ لوگ نوسو سے ایک ہزار تک لشکر کی واقعی یہی تعداد تھی۔پھر آپ نے پوچھا لشکر میں کون لوگ شامل ہیں۔اس نے تمام بڑے بڑے سرداران عتبه، شیبه،ابو جہل، امیہ بن خلف، ابوالبختری، حکیم بن حزام ، نضر بن حارث سھیل بن عمر و اور عمر و بن عبدود کے نام لئے قبل اس کے کہ مسلمان ان سورماؤں سے مرعوب ہوتے۔رسول اللہ نے ایک بات سے ہی سب اثر زائل کر کے ان کے حوصلے بڑھا دئیے۔آپ نے فرمایا ”لومکہ نے اپنے جگر گوشے تمہارے سامنے لا ڈالے ہیں۔اور پھر واقعی یہی ہوا۔قریش کے چیدہ چیدہ چوبیس سردار اس روز مارے گئے۔(ابن ہشام )1 غزوہ بدر کے موقع پر اپنے اخفائے اسلام کی وجہ سے حضرت عباس کو بھی کفار مکہ کے لشکر میں مجبوراً شامل ہونا پڑا تھا۔رسول اللہ اس سے بھی باخبر تھے۔آپ نے اپنے صحابہ کو ہدایت فرمائی کہ بنی ہاشم کے کچھ لوگ بشمول حضرت عباس مجبوراً جنگ کے لئے نکالے گئے ہیں۔ہمیں ان سے جنگ کرنے یا مارنے کی ضرورت نہیں۔حضرت عباس کے بدر میں قید ہونے پر ان کے ساتھ تمام قیدیوں کی مشکیں ڈھیلی کرنے اور حضرت عباس کے اقرار اسلام کے باوجو د بطور عام قیدی فدیہ وصول کرنے میں بھی یہ حکمت عملی کارفرما تھا کہ ان کے اخفائے اسلام کا راز فاش نہ ہو جائے۔(ابن سعد )2 حضرت عباس کو مکہ رکھنے کی حکمت عملی کی برکت تھی کہ غزوہ احد سے پہلے انہوں نے مکہ سے بنی غفار کے ایک شخص کے ہاتھ خط دے کر رسول اللہ کو کفار کے تین ہزار کے لشکر کے حملہ آور ہونے کی فوری اطلاع کروائی تھی جس کے نتیجہ میں مدینہ اچانک حملہ سے محفوظ رہا اور اہل مدینہ نے بر وقت تیاری کے ساتھ باہر نکل کر کفار سے مقابلہ کیا۔(الواقدی)3 اسی طرح غزوہ خیبر میں مسلمانوں کی شکست کی جھوٹی خبر مکہ میں مشہور ہو جانے پر حضرت عباس رسول اللہ کی احوال پرسی کے لئے مکہ سے نکل کھڑے ہوئے تھے اور حضور سے ملاقات کر کے خود فتح کی خبر سن کر وہ مطمئن ہوئے بلکہ مال غنیمت سے بھی حصہ پایا۔اس طرح فتح وہ مکہ سے قبل مکہ سے نکل کر رسول اللہ کے لشکر میں شامل ہو گئے تھے اور آپ سے خاتم المہاجرین کا خطاب پایا۔جس میں اشارہ تھا کہ رسول اللہ کے حکم پر ان کا مکہ میں رہ کر مسلمانوں کے مفاد کے لئے خدمات بجالا نا دوسروں کی ہجرت سے بڑھ کر ثواب واجر رکھتا ہے۔(ابن سعد )4 رسول کریم کا فرہمی اطلاعات کا نظام اتنا مضبوط اور مکمل تھا کہ غزوہ احزاب میں مسلمانوں کے حلیف خزاعہ قبیلہ کی طرف سے لشکر کفار کی پیشگی اطلاع کے نتیجہ میں ہی مسلمان اپنے دفاع کے لئے بر وقت خندق کی تیاری کر سکے تھے۔غزوہ خیبر میں بھی دشمن کی اطلاعات حاصل کرنے کے عمدہ انتظام تھے۔آخری قلعہ کی فتح سے پہلے حضرت عمرؓ کے ذریعہ یہودی جاسوس کی گرفتاری اور اس سے حاصل ہونے والی معلومات بہت ممد اور مفید ثابت ہوئی تھیں۔اس سے دشمن کا ذخیرہ ختم ہونے اور یہود کی پست ہمتی کی اطلاع سے مسلمانوں کے حوصلے بھی بلند ہوئے اور دشمن کے کئی کمزور پہلو بھی سامنے آئے۔مکہ کی عظیم الشان تاریخی فتح بھی میں کشت و خون سے بچاؤ کا سبب مسلمانوں کے نظام اطلاعات کا مؤثر ہونا اور