اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 25 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 25

اسوۂ انسان کامل 25 سوانح حضرت محمد علی فتح کی کیا نشانی دکھائیں گے۔اور پلٹ کر دوبارہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔رسول کریم ﷺ کو اطلاع ہوئی تو آپ نے حمراء الاسد تک زخمی صحابہ کے ساتھ دشمن کا تعاقب کیا۔جس پر انہیں اپنا ارادہ ترک کرنا پڑا۔( ابن سعد ) 63 جنگ احد کے بعد شراب کی قطعی ممانعت کا حکم آیا اگر چہ اس سے پہلے بھی آنحضرت ﷺ نے اپنی فطرت صحیحہ کے باعث کبھی شراب نہیں پی۔صحابہ نے یہ حکم آنے کے بعد اطاعت کا ایسا شاندار نمونہ دکھایا کہ محفل شراب میں اعلان ممانعت سنتے ہی شراب کے منکلے تو ڑ دیئے اور مدینہ کی گلیوں میں شراب بہنے لگی۔( بخاری )64 جنگ احد کے بعد قبائل عرب میں مسلمانوں کے خلاف شورش بڑھ گئی۔بعض قبائل کے ناپاک ارادے تو بر وقت اقدام سے ناکام ہوئے مگر بعض دلخراش واقعات بھی ہوئے۔پہلا واقعہ رجیع 4 ھ میں ہوا۔قبائل عضل وقارہ کے مطالبہ پر دین سکھانے کے لئے دس قاری بھجوائے گئے تھے۔ان قبائل نے بد عہدی سے اچھا تک حملہ کر کے آٹھ کو موقع پر شہید کر دیا اور خبیب اور زید کو قیدی بنالیا۔بعد میں ان دونوں نے بوقت شہادت عجب شجاعت اور جذبہ فدائیت و قربانی کا اظہار کیا۔ابوسفیان نے بھی اس موقع پر گواہی دی کہ خدا کی قسم میں نے کسی کو کسی سے ایسی محبت کرتے نہیں دیکھا جتنی محبت محمد ( ﷺ ) کے ساتھی ان سے کرتے ہیں۔(الحلبیہ ( 65 دوسرا واقعہ بئر معونہ میں ہوا۔جس میں ستر مسلمان قاریوں کی دردناک شہادت ہوئی۔ان کو ہوازن کی شاخ بنی عامر اور تسلیم کے رئیس ابو عامر کے تقاضا پر تبلیغ اسلام کے لئے بھجوایا گیا تھا۔نبی کریم ﷺ کو اس سے بہت صدمہ ہوا اور آپ ایک ماہ تک نماز میں بآواز بلند یہ دعا کرتے رہے کہ اے اللہ ان قبائل کے ہاتھ ظلم سے روک دے۔4ھ میں یہود کے قبیلہ بنو نضیر کا مدینہ سے اخراج ہوا۔انہوں نے معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نبی کریم "پر قاتلانہ حملہ کی سازش کی اور تنبیہ پر بجائے معذرت کے سرکشی کی تو ان کا محاصرہ کیا گیا۔انہوں نے اپنے مال واسباب کے ساتھ مدینہ چھوڑ دینے کی حامی بھری۔رسول کریم عملے کا مقصد ان کی شرارتوں کا خاتمہ تھا اس لئے آپ نے یہ شرط قبول فرمالی۔(ابن ہشام ) 66 اس کے بعد رسول کریم علیہ نجد کے غطفانی قبائل کی سرکوبی کے لئے تشریف لے گئے۔جس میں پہلی دفعہ نماز خوف ادا کی گئی۔اس غزوہ کو ذات الرقاع کہتے ہیں۔اسی سال رسول کریم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن حجش کی شہادت کے بعد ان کی بے سہارا بیوہ زینب سے شادی کی جو بہت پارسا اور صدقہ و خیرات کرنے والی خاتون اور ام المساکین کے نام سے مشہور تھیں۔آپ جلد ہی وفات پا گئیں۔اسی سال رسول کریم ﷺ نے قریش کے معزز گھرانے کی خاتون حضرت ام سلمہ سے بھی شادی کی۔جن کے خاوند ابوسلمہ احد میں زخمی ہونے کے بعد شہید