اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 24 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 24

اسوہ انسان کامل 24 سوانح حضرت محمدعلی عام جنگ شروع ہونے سے پہلے حضرت علیؓ نے علمبر دار قریش طلحہ اور حضرت حمزہ نے اس کے بھائی عثمان کا خاتمہ کر دیا۔پھر دونوں فوجیں آپس میں گتھم گتھا ہو گئیں۔رسول اللہ ﷺ کی عطا فرمودہ تلوار کا حق حضرت ابودجانہ نے بھی خوب ادا کیا۔فریقین کے زبردست مقابلہ میں قریش کے نو (۹) علمبر دار مارے جانے کے بعد فوج میں بھگدڑ بچ گئی۔اور مسلمان فتح یاب ہوئے۔( ابن ہشام ) 58 پہاڑی درہ پر موجود مسلمان بھی اپنے امیر کی ہدایت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے درہ خالی چھوڑ کر مالِ غنیمت جمع کرنے میں مصروف ہوگئے۔قریش کے سردار خالد بن ولید اور عکرمہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھاگتے ہوئے ساتھیوں کو جمع کر کے درے سے آکر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔اس اچانک حملہ سے اسلامی فوج پر ایک گھبراہٹ طاری ہو گئی۔حضرت حمزہ بے جگری سے لڑے۔وحشی نامی غلام نے چھپ کر حملہ کر کے انہیں شہید کر دیا۔(بخاری) 59 حضرت طلحہ اپنے آقا کے آگے سینہ سپر ہو گئے اور لڑتے ہوئے اپنا ہا تھ ٹنڈا کر والیا۔حضرت ام عمارہ نے اپنے آقا کے دفاع میں جان لڑا دی۔مسلمانوں کے علمبر دار حضرت مصعب بن عمیر سمیت کئی مسلمان شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔یہاں تک کہ خود رسول کریم ﷺ کی شہادت کی خبر مشہور ہو گئی۔آپ کا چہرہ مبارک زخمی اور لہولہان تھا۔حضرت فاطمہ اور حضرت علیؓ نے آپ کی مرہم پٹی کی۔آپ نے دامن احد میں ایک محفوظ جگہ پر بعض صحابہ کے ساتھ پناہ لی۔زخمی حالت میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کر رہے تھے کہ اے اللہ میری قوم کو معاف کر دے۔( بخاری ) 60 ایسے نازک وقت میں ابو سفیان نے فخریہ نعرے بازی شروع کر دی تو پہلے رسول کریم ﷺ نے مسلمانوں کو خاموش رہنے کا حکم دیا مگر جب اس نے بتوں کی عظمت کے نعرے لگائے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جواب دو۔پھر کیا تھا میدان احمد نعرہ ہائے تکبیر و توحید سے گونج اٹھا۔ابو سفیان آئندہ سال بدر میں پھر مقابلہ کا وعدہ کر کے مکہ روانہ ہوا۔رسول کریم ﷺ نے اپنے ستر شہداء کی تجہیز و تکفین اور تدفین کا انتظام کیا جن کی نعشوں کو مسخ کیا گیا تھا۔(بخاری) 61 اتنے بڑے نقصان اور صدمہ کے باوجود انصار مردوں اور خواتین سے فدائیت کے عجب نظارے دیکھنے میں آئے۔ایک انصاریہ کے والد بھائی اور شوہر تینوں شہید ہو چکے تھے۔وہ رسول اللہ ﷺ کو بخیریت واپس مدینہ آتے دیکھ کر بے اختیار کہ اٹھی کہ آپ زندہ ہیں تو سب مصیبتیں بیچ ہیں۔پھر مجھے کسی کی پرواہ نہیں۔(پیشمی ) 62 احد سے واپسی پر ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کو خیال آیا کہ نہ مال غنیمت ہاتھ آیا نہ قیدی۔مکہ واپس جا کر