اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 26 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 26

اسوہ انسان کامل 26 سوانح حضرت محمد علی ہو گئے۔حضرت ام سلمہ بہت دانا اور زیرک خاتون تھیں۔لکھنا پڑھنا جانتی تھیں۔انہوں نے 84 سال عمر پائی اور مسلمان عورتوں کی تعلیم و تربیت میں حضرت عائشہ کی طرح بہت کردار ادا کیا۔اور رسول کریم ﷺ سے کئی روایات بیان کی ہیں۔( ازواج ) 67 5ھ میں رسول کریم ﷺ ایک ہزار صحابہ کے ساتھ مدینہ سے پندرہ دن کی مسافت طے کر کے شام کی سرحد پر دومتہ الجندل مقام پر ڈاکوؤں کے ایک گروہ کا قلع قمع کرنے تشریف لے گئے جن سے مدینہ پر حملہ کا خدشہ تھا۔وہ لوگ اطلاع پا کر بھاگ گئے۔اسی سال رسول کریم ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد حضرت زینب بنت جحش سے نکاح کیا۔اس سے قبل نسلی و قومی امتیاز کا خاتمہ کرنے کی خاطر آپ نے قریش کی اس معزز خاتون کی شادی اپنے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے حضرت زیڈ سے کی۔مگر جب بعض خانگی وجوہ سے یہ رشتہ نبھ نہ سکا تو آپ نے اپنے متبنی حضرت زید کی مطلقہ بیوی سے نکاح کر کے عربوں کی ایک اور جاہلانہ رسم کا بھی خاتمہ کر دیا۔وہ منہ بولے بیٹے کی طلاق یافتہ کوحقیقی بیٹے کی بیوی کی طرح حرام سمجھتے تھے۔(طبری) 68 قرآن شریف میں حضرت زینب سے نکاح کے ذکر کے بعد نبی کریم ﷺ کے تمام انبیاء سے افضل روحانی مقام’ خاتم النبین “ کا بیان ہے کہ بے شک رسول کریم ﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کا رسول اور خاتم النبین (ﷺ) ہونے کے ناطہ سے آپ امت کے روحانی باپ ہیں ( سورۃ الاحزاب : 41) گویا آئندہ آپ کی پیروی اور مہر نبوت سے ہی امت میں روحانی فیوض و برکات حاصل ہو سکتے ہیں۔احکام پرده سورۃ الاحزاب میں ہی اسلامی معاشرہ میں اخلاقی اقدار کی حفاظت کے لئے پردہ کے احکام کا بھی بیان ہے۔جس کے مطابق عورتوں کو اس طرح چادریں اوڑھنے کی ہدایت ہے تا کہ وہ پہچانی جائیں کہ مسلمان خواتین ہیں۔دوسری جگہ سورۃ النور میں مردوں اور عورتوں دونوں کو نظر بھی نیچی رکھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ عورتیں جسم کا جو حصہ مجبوراً نہیں ڈھانک سکتیں اس کے کھلا رکھنے میں حرج نہیں لیکن جو حصہ ڈھانپ سکیں اس کا پردہ ضرور کرنا چاہیے۔گویا پردہ کا یہ حکم حسب حالات ہے۔شہر، گاؤں، امیر و غریب اور ازواج مطہرات اور عام مسلمان عورتوں میں پردہ کے فرق کی یہی بنیاد ہے۔پردہ کی روح و حکمت یہ ہے کہ نہ تو عورت کو بالکل قیدی بنا دیا جائے اور نہ ہی مغربی تہذیب کی طرح بے حجاب چھوڑ دیا جائے۔چنانچہ مسلمان عورتیں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں علمی مجالس میں شریک ہوئیں ، پردہ کی رعایت سے مسائل سیکھتیں، سفروں پر مردوں کے ساتھ جاتیں ، سواری کرتیں ، تفریحی تماشے وغیرہ دیکھتیں اور جنگوں میں شریک ہو کر زخمیوں کو پانی پلاتیں اور مرہم پٹی کرتی تھیں۔( بخاری ) 69