اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 377 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 377

اسوہ انسان کامل 377 غزوات النبی میں خلق عظیم گا اور اس راہ میں اپنی جان بھی فدا کرنی پڑے تو کر گزروں گا۔صحابہ نے اپنے سپہ سالار اعظم کا یہ حوصلہ دیکھا تو والہانہ لبیک کہتے ہوئے آپ کے ہمرکاب ہو کر چل پڑے۔کئی صحابہ زخموں سے چور تھے کہ انہیں اُٹھا کر حمراء الاسد لے جایا گیا۔کفار کو مسلمانوں کی اس پیش رفت کا پتہ چلا تو وہ مکہ واپس لوٹ گئے۔یہود مدینہ کی عہد شکنی اور آنحضرت کے احسانات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تشریف لانے کے بعد یہود کے تین قبائل بن قینقاع بنونضیر اور بنوقریظہ کے ساتھ امن وصلح سے رہنے کا معاہدہ کیا۔یہود کے یہ تینوں قبیلے مدینہ کے جنوب مشرق میں چار پانچ میل کے اندر پھیلے ہوئے تھے۔2ھ میں بدر میں مسلمانوں کی فتح کے بعد یہود کے تیور بدلنے شروع ہوئے اور انہوں نے مدینہ کے مشرکین اور منافقین سے مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں اور ریشہ دوانیاں شروع کر دیں۔یہود بنو قینقاع اس میں پیش پیش تھے۔جب اس معاہدہ شکنی ، فساد اور بے حیائی کی ان سے پوچھ گچھ کی گئی تو وہ قلعہ بند ہو کر مسلمانوں سے جنگ کے لئے تیار ہو گئے۔اس کی سزا اُن کی شریعت کے مطابق تو یہ تھی کہ ان کے جنگجو مردوں کو تل اور عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا جائے۔(استثناء20/13) لیکن یہ رسول کریم کا احسان ، شفقت اور وسعت حوصلہ تھا کہ آپ نے ان کی جان بخشی فرما دی۔لیکن چونکہ مدینہ میں ان کا رہنا خطر ناک تھا اس لئے آپ نے بنو قینقاع کو بدعہدی پر مدینہ سے چلے جانے کا حکم دیا۔3ھ میں یہود کے سب سے بڑے قبیلے بنونضیر کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف اہل مکہ سے ساز باز رکھنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقدام قتل کے منصوبہ کی صورت میں بد عہدی ظاہر ہوئی۔( بخاری 33 ) جب ان سے مؤاخذہ کیا گیا تو وہ بھی قلعہ بند ہو کر مسلمانوں سے برسر پیکار ہو گئے اور پندرہ دن بعد انہوں نے مال واسباب سمیت مدینہ سے نکل جانے کی شرط پر قلعوں کے دروازے کھول دیئے۔(ابن ھشام) 34 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل مقصد چونکہ ان کی شرارتوں کا سدِ باب تھا۔اس لئے آپ نے یہود پر احسان کرتے ہوئے یہ شرط مان لی اور 4 ھ میں بنو نضیر کے یہودی اپنے اہل و عیال ، تمام تر مال و اسباب اور سونے چاندی کے قیمتی زیورات وغیرہ ساتھ لے کر ڈھول باجے بجاتے اور قومی گیت گاتے ہوئے بڑی شان اور طمطراق کے ساتھ مدینہ سے نکلے۔(زرقانی) 35 یہود کے سردار سلام بن ابی الحقیق نے اپنا قیمتی خزانہ مسلمانوں کو دکھاتے ہوئے کہا ایسے نازک حالات کیلئے ہم نے یہ مال جمع کر رکھا تھا۔یہودی جانتے تھے کہ رسول اللہ علیہ عہد کے پابند ہیں۔وہ ہمارے مال واسباب سے تعرض نہیں کریں گے اور ہمارے مال محفوظ ہیں۔اس لئے اپنے مال اعلانیہ دکھاتے ہوئے گئے۔بنو نضیر کے سرداروں میں سے حی بن اخطب، کنانہ بن ربیع اور سلام بن ابی الحقیق اپنے خاندان سمیت خیبر کے قلعہ بند شہر میں جا کر آباد ہو گئے اور