اسوہء انسانِ کامل — Page 376
376 غزوات النبی میں خلق عظیم اسوہ انسان کامل جذبات کی آئینہ دار ہے۔آپ نے تمام صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا کہ صف بستہ ہو جاؤ تا کہ ہم سب اپنے رب کی حمد وثنا کر سکیں۔خوشی اور فتح کے موقع پر تو دنیا کو خوشی مناتے اور شکر کرتے دیکھا ہے لیکن آؤ آج ابتلا اور مصیبت میں بھی خدا کے اس عظیم بندے کو اپنے رب کی حمد وستائش کرتے دیکھیں جنہوں نے ہر حال میں راضی برضاء الہی رہنا سیکھا تھا۔میدانِ اُحد میں رسول اللہ نے اپنے صحابہ کی حلقہ بندی کر کے اُن کی صفیں بنوائیں اور اُن کے ساتھ مل کر یوں دعا کی۔”اے اللہ ! اسب حمد اور تعریف تجھے حاصل ہے۔جسے تو فراخی عطا کرے اسے کوئی تنگی نہیں دے سکتا اور جسے تو تنگی دے اسے کوئی کشائش عطا نہیں کر سکتا۔جسے تو گمراہ قرار دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور جسے تو ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔جسے تو نہ دے اسے کوئی عطا نہیں کر سکتا اور جسے تو عطا کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔جسے تو دور کرے اسے کوئی قریب نہیں کر سکتا اور جسے تو قریب کرے اسے کوئی دور کرنے والا نہیں۔اے اللہ ! ہم پر اپنی برکات، رحمتوں، فضلوں اور رزق کے دروازے کھول دے۔اے اللہ ! میں تجھ سے ایسی دائمی نعمتیں مانگتا ہوں جو کبھی زائل ہوں نہ ختم ہوں۔اے اللہ میں تجھ سے غربت و افلاس کے زمانہ کے لئے نعمتوں کا تقاضا کرتا ہوں اور خوف کے وقت امن کا طالب ہوں۔اے اللہ! جو کچھ تو نے ہمیں عطا کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔اور جو تو نے نہیں دیا اس کے شتر سے بھی۔اے اللہ! ایمان ہمیں محبوب کر دے، اور اسے ہمارے دلوں میں خوبصورت بنا دے، کفر ، بد عملی اور نا فرمانی کی کراہت ہمارے دلوں میں پیدا کر دے اور ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں سے بنا۔اے اللہ! ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں وفات دے، مسلمان ہونے کی حالت میں زندہ رکھ اور صالحین میں شامل کر دے۔ہمیں رسواتہ کرنا، نہ ہی کسی فتنہ میں ڈالنا۔اے اللہ ! ان کا فروں کو خود ہلاک کر جو تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور تیری راہ سے روکتے ہیں ان پر ختی اور عذاب نازل کر۔اے اللہ ! ان کا فروں کو بھی ہلاک کر جن کو کتاب دی گئی کہ یہ رسول برحق ہے۔( احمد ) 31 شجاعت احد میں مسلمانوں کے ستر افراد شہید ہوئے اور مشرکین فتح کی خوشی مناتے واپس لوٹے تو روحاء مقام پر جا کر ابوسفیان مشرکین مکہ کو طعنہ دیتے ہوئے کہنے لگا کہ نہ تو تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوقتل کیا ، نہ عورتوں کو قید کیا۔پھر احد کے معرکہ کو فتح کیسے قرار دے سکتے ہو؟ ( ھیثمی )32 چنانچہ مشرکین مکہ نے دوبارہ مدینہ پر حملہ کا ارادہ کیا۔رسول کریم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ ہم اہل مکہ کو مدینہ پر حملہ آور ہونے کا موقع نہ دیں گے، بلکہ آگے جا کر دشمن کا تعاقب کریں گے۔اُحد کی شہادتوں اور وقتی ہزیمت کے بعد یہ فیصلہ اتنا کٹھن تھا کہ اسے سن کر صحابہ ایک دفعہ تو سناٹے میں آگئے۔وہ سوچتے ہو نگے کہ زخموں اور غم سے نڈھال ہونے کی حالت میں دشمن کا مقابلہ کیسے کریں گے ، تب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت ، مردانگی ، پختہ عزم تو کل علی اللہ اور قائدانہ صلاحیت کا عجیب نظارہ صحابہ نے دیکھا۔آپ نے فرمایا کہ میں دشمن کو مدینہ پر دوبارہ حملہ کا موقع دینا نہیں چاہتا اس لئے اُن کے تعاقب کا فیصلہ کر لیا ہے۔اگر ایک آدمی بھی میرا ساتھ نہ دے تو میں بہر حال دشمن کے پیچھے جاؤں