اسوہء انسانِ کامل — Page 378
اسوہ انسان کامل 378 غزوات النبی میں خلق عظیم ایک قلعہ کی سرداری حاصل کر لی۔مدینہ سے یہود کے اخراج کے بارہ میں منٹگمری واٹ جیسا معاند اسلام بھی تسلیم کرتا ہے کہ ”یہود کو ان کے مخالفانہ طرز عمل اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازشیں کرنے کی وجہ سے مدینہ سے نکالا گیا۔‘ ( واٹ ) 36 قبیلہ بنونضیرا اپنی اس جلاوطنی کی وجہ سے اسلام کا پہلے سے کہیں بڑھ کر دشمن ہو چکا تھا۔اسی انتقام کی آگ میں جلتا ہوا اس قبیلہ کا سردار حیی بن اخطب مسلسل قبائل عرب اور اہل مکہ کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے خلاف اکساتا رہتا تھا۔حیی بن اخطب کی اشتعال انگیزیوں کے نتیجہ میں ہی جنگ احزاب میں سارا عرب متحد ہو کر مدینہ پر حملہ آور ہوا۔تو مسلمانوں نے شہر کے گر د خندق کھود کر اپنا دفاع کیا تھا۔حیی بن اخطب نے مدینہ کے نواح میں بسنے والے آخری یہودی قبیلہ بنو قریظہ کو بھی مسلمانوں کے خلاف اکسا کر غداری پر آمادہ کر لیا۔جس سے مسلمانان مدینہ کی جانوں کی حفاظت کا بہت بڑا خطرہ پیدا ہو گیا، کیونکہ انہوں نے بنوقریظہ سے معاہدہ کی وجہ سے ان کی سمت کو محفوظ خیال کرتے ہوئے اس طرف خندق نہیں کھو دی تھی۔اللہ تعالیٰ نے ان لشکروں کو تو پسپا کرنے کے سامان کر دئیے، لیکن اس طرح اس موقع پر یہود خیر کی کھلم کھلا عداوت اور بنوقریظہ کی غداری اور بغاوت کھل کر سامنے آگئی۔(ابن ھشام ) 37 جنگ احزاب کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنوقریظہ کو ان کی غداری اور محاربت پر گرفت کرنے نکلے تو وہ بھی قلعہ بند ہو گئے۔بالآخر انہوں نے رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے حضرت سعد بن معاذ انصاری کو ( جو اسلام سے قبل ان کے حلیف رہ چکے تھے ) فیصلہ کرنے کیلئے اپنا ثالث مانا۔حضرت سعد نے یہودی شریعت کے مطابق بنوقریظہ کے لڑنے والے مردوں کو قتل اور عورتوں کو قیدی بنانے کا فیصلہ دیا۔(بخاری) 38 غزوة ذي قرد مسلمانوں کے خلاف پہلی جنگی کاروائی کا آغاز یہود کے حلیف قبائل غطفان کے ایک قبیلہ بنوفزارہ نے سنہ ۷ ھ میں کر دیا تھا۔انہوں نے ذی قرد کی چراگاہ پر ، جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مویشی اونٹ وغیرہ چرایا کرتے تھے حملہ کر دیا اور چند اونٹنیاں ٹوٹ کر لے گئے۔ایک بہادر نوجوان صحابی سلمہ بین الاکوع نے ان کا تعاقب کیا اور عین اس وقت جب وہ پانی کے ایک چشمہ پر خواستراحت تھے، تیروں کی بوچھاڑ کر کے ان کو بھگادیا اور اونٹیاں واپس لے آئے۔نبی کریم کو اس اچانک حملہ کی خبر ہوئی تو آپ صحابہ کے ساتھ تشریف لائے۔بہادر سلمہ بن الاکوع نے آنحضرت کی خدمت میں دشمن کا مزید تعاقب کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ میں نے انہیں چشمہ کا پانی نہیں پینے دیا تھا وہ سخت پیاسے ہیں اور آگے چشمہ پر ضرور مل جائیں گے۔ہمارے سید و مولا رحمۃ للعالمین نے اس کا کیا خوبصورت جواب دیا۔ایک فقرہ کہہ کر گویا دریا کوزے میں بند کر دیا۔نہیں نہیں بلکہ رحمتوں کا سمندر ایک فقرے میں سمو دیا۔فرمایا اے سلمہ إِذَا مَلَكْتَ فَاسْجَحُ کہ جب دشمن پر قدرت حاصل ہو جائے تو پھر عفو سے کام لیا کرتے ہیں۔(مسلم ) 39