اسوہء انسانِ کامل — Page 375
اسوہ انسان کامل 375 غزوات النبی میں خلق عظیم اُحد میں جنگی حکمت عملی اُحد کے موقع پر خالی درہ سے دشمن کے حملہ کے نتیجہ میں کئی مسلمان شہید ہو چکے تھے اور دشمن کے حملہ کا سارا زور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور بزرگ اصحاب پر تھا۔اس دوران رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے خاموشی کی حکمت عملی اختیار فرمائی تا کہ اسلامی قیادت کی حفاظت کی جاسکے۔حضرت کعب بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلے میں نے رسول اللہ کو ( درّہ میں خود پہنے ) پہچان کر کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔نبی کریم نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا پھر از راہِ مصلحت اپنی زرہ مجھے پہنائی اور میری زرہ خود پہن لی۔مجھ پر حملہ کرنے والا یہی سمجھتا تھا کہ وہ رسول اللہ پر حملہ کر رہا ہے۔مجھے اس روز ہیں زخم آئے۔(صیثمی ) 27 اُس وقت اسلامی قیادت کی حفاظت کا معاملہ انتہائی اہم تھا۔جس کے لئے حضور نے یہ پر حکمت طریق اختیار فرمایا۔رسل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کواحد میں سخت تکلیف اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔یہ آپ کی زندگی کے صدموں میں بڑا بھاری صدمہ تھا۔ایک دکھ تو یہ تھا کہ دورہ پر مقرر تیر اندازوں نے آپ کے ارشاد کی تعمیل نہ کی جس کا خمیازہ پوری مسلمان قوم کو بھگتنا پڑا، دوسرا بڑا غم مسلمانوں کی ستر قیمتی جانوں کے نقصان کا تھا۔تیسرے آپ خود اس جنگ میں بڑی طرح زخمی ہوئے تھے۔مگر اس وقت بھی آپ نے کمال وقار کے ساتھ نہایت صبر وحوصلہ کا نمونہ دکھایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے دانت شہید ہو گئے تھے۔چہرہ زخمی تھا اور اس سے خون بہ رہا تھا۔حضور خون پونچھتے جاتے اور فرماتے ، یہ قوم کیسے کامیاب ہوگی جنہوں نے اپنے نبی کے چہرے کو خون آلودہ کیا ہے حالانکہ وہ انہیں خدا کی طرف بلاتا ہے۔( مسلم ) 28 حضور کی یہ تکلیف صحابہ کیلئے بہت گراں تھی۔انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ مشرکین مکہ کے خلاف بددعا کر دیں۔آپ نے فرمایا مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا۔مجھے تو اسلام کی طرف دعوت دینے والا اور رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔پھر آپ نے دعا کی اے اللہ ! میری قوم کو معاف کر دے یہ لوگ جانتے نہیں۔“ ( مسلم ) 29 ابودجانہ انصاری احد کے دن سر پہ سرخ پٹی باندھے دو صفوں کے درمیان اکثر کر چل رہے تھے رسول اللہ اللہ نے فرمایا یہ چال خدا کو پسند نہیں مگر آج اس جگہ دشمن کے مقابلہ میں پسند ہے۔( ھیثمی ) 30 اُحد میں ہزیمت کے بعد استقامت اور راضی برضا احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستر صحابہ شہید ہوئے اور خود بھی زخموں سے لہولہان ہو گئے۔آپ کا دل صحابہ کی جدائی پر غمگین تھا مگر خدا کے وعدوں پر کامل یقین تھا۔آپ کے ایمان اور استقامت میں ذرہ برابر بھی کوئی فرق نہیں آیا جس کا اندازہ آپ کی اس دعا سے ہوتا ہے جو آپ نے مشرکین مکہ کے واپس لوٹ جانے کے بعد کی ، جو آپ کے دلی