اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 374 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 374

اسوہ انسان کامل 374 غزوات النبی میں خلق عظیم محفوظ رہیں۔( بخاری )22 ابوطلحہ بڑے جی دار اور بہادر تھے، زبر دست تیرانداز۔طاقتور ایسے کہ کمان کو زور سے کھینچتے تو ٹوٹ کر رہ جاتی۔احد میں آپ نے دو یا تین کمانیں توڑ ڈالیں۔ایسی تیزی سے آپ تیراندازی کر رہے تھے کہ تیر بانٹنے والا جب اپنا ترکش لے کر حضور کے پاس سے گذرتا تو آپ فرماتے ارے! ابوطلحہ کے لئے تیر پھیلا دو۔( بخاری )23 جنگ میں سپاہیوں کی مدد اور تالیف قلب حضرت سعد بن ابی وقاص بیان فرماتے ہیں کہ احد کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ترکش میرے لئے پھیلا دیا تھا۔آپ میری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ) فرماتے تھے کہ اے سعد! تیر چلاؤ۔میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔‘‘ ( بخاری )24 غزوہ احد میں جب مشرکین پسپا ہورہے تھے تو ان میں سے ) کسی شیطان نے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کیلئے آواز بدل کر یہ نعرہ لگایا اے اللہ کے بندو! پیچھے پلٹو۔یعنی پیچھے سے تم پرحملہ ہو گیا ہے۔چنانچہ مسلمانوں کا اگلا دستہ پیچھے کو پلٹ کر حملہ آور ہوا اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں سے ایسا الجھ کر رہ گیا کہ اپنے پرائے کی تمیز اور ہوش نہ رہی۔حضرت حذیفہ نے اچانک دیکھا تو ان کے والد یمان ( جو خلص صحابی تھے ) خود مسلمانوں کے نرفعے میں، ان کی تلواروں کی زد میں تھے۔وہ بے چارے چلاتے رہے کہ اے اللہ کے بندو! یہ میرا باپ ہے، یہ میرا باپ ہے اس کو بچانا۔ان کی آواز شور میں دب کر رہ گئی اور حذیفہ کے والدیمان مسلمانوں کے ہاتھوں ہی احد میں شہید ہو گئے۔( بخاری ) 25 رسول کریم نے اپنے اس صحابی کی تالیف قلب فرمائی اور ان کے والد کی دیت انہیں دلوائی۔محمود بن لبیڈ ا نصاری روایت کرتے ہیں کہ حضرت یمان وہ مخلص صحابی تھے جو باوجود بڑھاپے کے غزوہ احد میں شامل ہوئے۔رسول کریم نے انکو اور ایک اور بوڑھے صحابی ثابت کو حفاظت کے لئے عورتوں کے پاس مدینہ میں رہنے کیلئے چھوڑا تھا۔مگر انہیں شہادت کا جوش آیا تو وہ دونوں مسلمانوں کے قدم اکھڑنے کے بعد میدان احد میں آکر ملے۔ثابت تو مشرکوں کے ہاتھوں شہید ہوئے اور یمان غلط فہمی سے مسلمانوں کے جھرمٹ میں عبداللہ بن مسعودؓ کے بھائی عتبہ بن مسعودؓ کے ہاتھوں مارے گئے۔حذیفہ نے صرف اتنا کہا تم نے میرے باپ کو قتل کر دیا۔جواب ملا کہ ہم انہیں شناخت نہ کر سکے۔حضرت حذیفہ نے کہا اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کرے۔یہاں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل گرفتہ صحابی حضرت حذیفہ کا اتنا خیال رکھا ان کے والد کی دیت سو اونٹ بیت المال سے ادا فرمائی۔حضرت حذیفہ نے وہ سارے کا سارا مال مستحق مسلمانوں میں بطور صدقہ تقسیم کر دیا۔یوں اخلاص و ایثار میں ان کا مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک اور بھی بڑھ گیا۔( مینی ) 26