اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 360 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 360

360 اسوہ انسان کامل نبی کریم کا مصائب پر صبر نصیحت کی کہ اللہ سے ڈرو اور صبر کرو۔اس نے آپ کو پہچانا نہیں اور کہا پیچھے ہٹ تمہیں میرے جیسی مصیبت نہیں پہنچی۔اسے جب بتایا گیا کہ یہ تو نبی کریمے تھے تو آپ کے گھر حاضر ہوئی اور معذرت کی کہ میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔( گویا اب میں صبر کرتی ہوں) آپ نے فرمایا اصل صبر تو صدمہ کے آغاز میں ہوتا ہے۔( بخاری )16 پیاروں کی جدائی پر صبر اس عورت کا رسول اللہ کے پاس آکر معذرت کرنا اس وجہ سے تھا کہ وہ جانتی تھی کہ نبی کریم نے اس سے بڑے مصائب پر صبر کیا۔ماں کی وفات پر اپنے پیارے دادا اور چچا کی وفات پر اپنی عزیز بیوی خدیجہ کی جدائی پر۔اپنے کئی بیٹوں اور بیٹیوں کی وفات پر جن کی تعداد گیارہ تک بیان کی گئی ہے۔حضرت خدیجہ کے بطن سے آپ کی نرینہ اولا دقاسم، عبد اللہ طیب ، طاہر مطہر ، مطیب ، عبد مناف کم سنی میں اللہ کو پیارے ہو گئے جبکہ بیٹیوں میں سے اُم کلثوم،رقیہ اور زینب نے آپ کی زندگی میں وفات پائی۔(الحلبیہ ( 17 اور آپ نے صبر کیا۔ماریہ قبطیہ کے بطن سے آخری عمر کی اولاد ابراھیم پیدا ہوئے۔جو آپ کو بہت پیارے تھے ابوسیف کے گھر میں رضاعت کے لئے صاحبزادہ ابراھیم کو رکھا گیا تھا، آپ وہاں اپنے اس لخت جگر سے ملاقات کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔آپ ابراھیم کو اٹھا کر سینے سے لگاتے اور پیار کرتے۔اللہ تعالیٰ سے علم پا کر آپ نے اس بیٹے کی صلاحیتوں کے بارہ میں فرمایا تھا کہ اگر صاحبزادہ ابراھیم زندہ رہتے تو ضرور سچے نبی ہوتے۔(ابن ماجہ ) 18 جب ابراہیم کی وفات کا وقت آیا تو رسول کریم نے کمال صبر کا نمونہ دکھایا۔اپنے خدا کی رضا کے آگے ، جو آپ کو ابراھیم سے کہیں زیادہ پیارا تھا، یہ کہتے ہوئے سر جھکا دیا کہ الْعَيْنُ تَدْمَعُ وَالْقَلْبُ يَحْزُنُ وَلَا تَقُولُ إِلَّا بِمَا يَرْضَى بِهِ رَبُّنَا وَإِنَّا عَلَى فِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ۔آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہے مگر ہم اللہ کی مرضی کے خلاف کوئی کلمہ زبان پر نہیں لائیں گے اور اے ابراھیم ! ہم تیری جدائی پر سخت غمگین ہیں۔( بخاری )19 حضرت ابوامامہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول کریم کی صاحبزادی ام کلثوم کا جنازہ قبر میں رکھا گیا تو آپ نے یہ آیت پڑھی مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيْهَا نُعِيدُ كُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أخرى (سورة طه: 56) کہ اس زمین سے ہی ہم نے تم کو پیدا کیا۔اس میں دوبارہ داخل کریں گے اور اسی سے دوسری مرتبہ نکالیں گے۔تم پہ پھر جب ان کی لحد تیار ہوگئی تو نبی کریم خود مٹی کے ڈھیلے اٹھا کر دینے لگے اور فرمایا کہ اینٹوں کے درمیان سوراخ ان سے بند کر دو۔پھر فرمایا کہ ایسا کرنے کی کوئی ضرورت تو نہیں مگر زندوں کا دل اس سے مطمئن ہوتا ہے۔( بیشمی ) 20 حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول کریم کی دو بیٹیوں کے جنازہ میں شریک ہونے کا موقع ملا۔رسول اللہ قبر کے پاس تشریف فرما تھے اور میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ کی صاحبزادی رقیہ فوت ہوئیں تو عورتیں رونے لگیں۔