اسوہء انسانِ کامل — Page 361
اسوہ انسان کامل 361 نبی کریم کا مصائب پر صبر P حضرت عمرؓ کوڑے سے انہیں مارنے لگے تو نبی کریم نے انہیں اپنے ہاتھ سے پیچھے ہٹایا، فرمایا اے عمر ا ر ہنے دو۔پھر آپ نے عورتوں کو نصیحت فرمائی کہ تم شیطانی آوازوں ( یعنی چیخ و پکار ) سے اجتناب کرو۔پھر فرمایا کہ بے شک ایسے صدمے میں آنکھ کا اشکبار ہو جاتا اوردل کا غمگین ہوتا تو اللہ کی طرف سے ہے، جو دل کی نرمی اور طبعی محبت کا نتیجہ ہے۔ہاتھ اور زبان سے ماتم شیطانی فعل ہے۔( احمد ) 21 حضرت اسامہ بن زید حضرت زینب کے ایک صاحبزادے کی وفات کا واقعہ یوں بیان کرتے ہیں کہ ایک صاحبزادی نے آپ کو پیغام بھجوایا کہ میرا بیٹا جان کنی کے عالم میں آخری سانس لیتا نظر آتا ہے۔آپ تشریف لے آئیں۔رسول اللہ نے فرمایا ان کو جا کر سلام کہو اور یہ پیغام دو یہ اللہ کا ہی مال تھا، اس نے واپس لے لیا، اسی نے عطا کیا تھا۔اور ہر شخص کی اللہ کے پاس میعاد مقرر ہے۔اس لئے میری بیٹی صبر کرے اور اللہ سے اس کے اجر کی امید رکھے۔اس پر آپ کی صاحبزادی نے دوبارہ پیغام بھجوایا اور قسم دے کر کہلا بھیجا کہ آپ ضرور تشریف لائیں۔آپ تشریف لے گئے ،سعد بن عبادہ ، معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور زید بن ثابت اور کچھ اور اصحاب آپ کے ساتھ تھے۔وہ بچہ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔اس کی جان نکل رہی تھی۔رسول اللہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔حضرت سعد نے تعجب سے کہا یا رسول اللہ یہ کیا؟ آپ نے فرمایا یہ محبت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کی ہے۔(مسلم )22 حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ کی ایک کم سن بیٹی آخری دموں پر تھی۔رسول کریم نے اسے اپنے سینے سے چمٹایا پھر اس پر اپنا ہاتھ رکھا اس کی روح پرواز کر گئی۔بچی کی میت رسول اللہ کے سامنے تھی۔رسول اللہ کی رضاعی والدہ اُم ایمن رو پڑیں۔رسول کریم نے اسے فرمایا اے ام ایمن ! رسول اللہ کی موجودگی میں تم روتی ہو وہ بولیس جب خدا کا رسول بھی رورہا ہے تو میں کیوں نہ روؤں۔رسول کریم نے فرمایا میں روتا نہیں ہوں۔یہ تو محبت کے آنسو ہیں پھر آپ نے فرمایا مومن کا ہر حال ہی خیر اور بھلا ہوتا ہے۔اس کے جسم سے جان قبض کی جاتی ہے اور وہ اللہ کی حمد کر رہا ہوتا ہے۔(نسائی) 23 نبی کریم کے بہت پیارے چچا حضرت حمزہ جو مکہ میں مصائب کے زمانہ میں آپ کی پناہ بنے تھے۔احد میں شہید ہوئے ان کی نعش کا مثلہ کر کے کان ناک کاٹے گئے اور کلیجہ چبا کر پھینکا گیا اور بے حرمتی کی گئی۔نبی کریم اپنے پیارے چا کی نعش پر تشریف لائے بغش کی حالت دیکھی اور فرمایا کہ اگر مجھے اپنی پھوپھی صفیہ کے غم کا خیال نہ ہوتا تو حمزہ کی نعش کو اسی حال میں چھوڑ دیتا کہ درندے اسے کھا جاتے اور قیامت کے دن ان کے پیٹوں سے اس کا حشر ہوتا۔پھر آپ نے ایک چادر کا کفن دے کر انہیں دفن کر دیا۔رسول اللہ ﷺ نے دوستوں کی موت کے صدمے بھی دیکھے۔احد میں ستر صحابہ شہید ہوئے تھے مگر آنحضرت کمال صبر سے راضی برضار ہے۔غزوہ موتہ میں آپ کے چازاد بھائی حضرت جعفر طیار حضرت زید بن حارثہ “ اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ شہید ہو گئے۔اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو وحی کے ذریعہ اطلاع فرمائی۔