اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 349 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 349

349 رسول اللہ کا استقلال اور استقامت اسوہ انسان کامل پھر ایک بھاری بھر کم پتھر اس معصوم کے سینے پر رکھا جاتا اور کہتا محمد کا انکار کرو اور لات و عزمی بتوں کی عبادت کرو۔ورنہ اسی حال میں مرجاؤ گے۔مگر استقامت کے اس شہزادے کی زبان پر اس حال میں بھی احد احد کے الفاظ جاری رہتے تھے کہ خدا ایک ہے خدا ایک ہے۔رسول اللہ سے اپنے صادق اور راست باز غلام کی یہ حالت دیکھی نہ جاتی تھی ایک روز اس خواہش کا اظہار کیا کہ کاش ہم بلال کو آزاد کرا سکتے۔حضرت ابو بکر کو یہ سعادت عطا ہوئی کہ انہوں نے حضرت بلال کو آزاد کر وایا۔( ابن سعد ) 7 حضرت یا سٹر ان کی بیوی سمیہ اور بیٹا عمار قریش کے قبیلہ بنومخزوم کے غلام تھے ان کو بھی مکے کے تپتے ہوئے میدان میں سخت گرم دو پہر میں لے جا کر اذیتوں کا نشانہ بنایا جاتا۔حضور انہیں صبر کی تلقین کرتے اور فرماتے ”اے خاندان یا سرصبر کرو۔میں تمہیں جنت کا وعدہ دیتا ہوں۔حضرت عثمان بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ کے ساتھ مکہ کے پتھر یلے میدان سے گزرا تو عمار اُس کے والد اور والدہ کو ان لوگوں نے عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا۔رسول اللہ کو دیکھ کر یا سر نے صرف اتنا کہا یا رسول اللہ اب زندگی اسی طرح ہی گزارنی ہوگی ؟ نبی کریم نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا صبر کرواے یا سر صبر کرو۔پھر آپ نے دعا کی اے اللہ ! یا سر کے خاندان کو بخش دے اور تو ان کو بخش ہی چکا ہے۔(احمد 8) بالآخر ابو جہل نے نیزہ سے حضرت سمیہ کو نہایت شرمناک طریق پر شہید کر ڈالا تھا۔(ابن سعد 9) یہی حال خباب ، صہیب ، عامر ابو فکیہہ کا تھا۔خباب کو آگ جلا کر اس میں ڈالا گیا۔دہکتے کوئلوں کو ان کی پشت کی چربی نے ٹھنڈا کیا ورنہ وہ ظالم تو سینے پر پاؤں رکھ کر کھڑے رہے۔یہاں تک کہ پشت پر جلنے کے نشان ہمیشہ کے لئے باقی رہ گئے۔(ابن سعد ) 10 حضرت خباب بیان کرتے ہیں کہ بالآخر ہم نے ایک دن رسول اللہ سے جا کر ان مظالم کی شکایت کی کہ کیا آپ ہماری مدد نہیں کریں گے اور ہمارے لئے دعا نہیں کریں گے۔آپ نے فرمایا ” تم سے پہلے لوگوں کو گڑھے کھود کر ان میں فن کر دیا جا تا تھا اور سر پر آری چلا کر دو ٹکڑے کر دیا جاتا تھا مگر یہ چیز انہیں اپنے دین سے نہ ہٹا سکی لوہے کی کنگھیوں سے ان کے گوشت ہڈیوں سے نوچ لئے گئے مگر یہ بات بھی انہیں دین سے جدا نہ کر سکی۔خدا کی قسم ! اللہ اپنے اس دین کو غلبہ بخشے گا اور صنعاء سے حضر موت تک کسی مسافر سوار کو سوائے اللہ کے کسی کا خوف نہ ہوگا۔مگر تم جلدی کرتے ہو۔( بخاری )11 خود رسول اللہ ﷺ کی ذات بابرکات بھی ان ظالموں کے تمسخر اور استہزاء سے محفوظ نہ تھی۔ابولہب کی بیوی ام جمیل آپ کے راستے میں کانٹے بچھا دیتی۔ہاتھ میں پتھر لے کر رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنا چاہتی مگر ہمیشہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق آپ کی حفاظت فرماتا تھا۔( ابن ہشام )12 رسول اللہ کی ذات پر مختلف حملے دشمنان اسلام رسول اللہ کسی پہلو چین نہ لینے دیتے۔گھر میں چولہے پر ھنڈیا پک رہی ہوتی تو وہ اُس میں غلاظت پھینک دیتے۔حتی کہ نماز پڑھتے ہوئے دشمن کے امکانی حملے سے بچنے کے لئے رسول اللہ ایک چٹان کو ڈھال بنا کر