اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 350 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 350

اسوہ انسان کامل 350 رسول اللہ کا استقلال اور استقامت کھڑے ہوتے۔( ابن ہشام) 13 ام جمیل رسول اللہ کو گالیاں دیتی اور کہتی تھی ہم نے مذمم کا انکار کر دیا ہے۔ہم اس کے دین سے بیزار ہیں اور اس کی نافرمانی کرتے ہیں۔(حاکم) 14 امیہ بن خلف رسول اللہ کو اعلانیہ بھی گالیاں دیتا اور اشاروں میں بھی ایسی حرکات کر کے آپ کو تمسخر کا نشانہ بناتا۔ابی بن خلف گلی سڑی ہڈی اٹھا کر لایا اسے ہاتھ سے مسل کر حضور کی طرف پھونک مار کر کہنے لگا اے محمد تم کہتے ہو اس طرح گل سڑ جانے اور مٹی ہو جانے کے بعد ہم پھر اُٹھائے جائیں گے؟ آپ نے فرمایا ”ہاں اللہ تعالیٰ تم سب کو اٹھائے گا اور پھر آگ میں داخل کرے گا۔“ ( ابن ہشام ) 15 عاص بن وائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے اولاد ہونے کے طعنے دیتا۔ولید بن مغیرہ کہتا ہے اگر فرشتہ اتر ناہی تھا تو ہمارے جیسے شہر کے کسی بڑے سردار پر اتر تا۔(ابن ہشام) 16 ابوطالب کی وفات کے بعد تو رسول اللہ کو ایذا دہی کا سلسلہ بہت تیز ہو گیا۔یہاں تک کہ آپ کی ذات پر حملے ہونے لگے ایک بد بخت نے آپ کے سر پر خاک ڈال دی۔رسول کریم اس حالت میں گھر تشریف لائے۔آپ کی لخت جگر حضرت فاطمہ مٹی بھرا سر دھوتی تھیں اور ساتھ روتی جاتی تھیں اور رسول اللہ ا سے تسلی دیتے ہوئے فرماتے تھے بیٹی ! رونا نہیں۔اللہ تعالیٰ تمہارے باپ کا محافظ ہے۔پھر فرمایا قریش نے میرے ساتھ ابوطالب کی وفات کے بعد بدسلوکی کی حد کر دی ہے۔(ابن ہشام )17 الغرض ابو طالب کی وفات کے بعد قریش رسول اللہ کو دکھ پہنچانے کا کوئی حیلہ یا بہانہ ضائع نہ کرتے تھے۔یہاں تک کہ رسول اللہ نے ایک دفعہ ابوطالب کی کمی محسوس کرتے ہوئے فرمایا اے میرے چا! آپ کی جدائی مجھے کس قدر محسوس ہوتی ہے۔( ھیثمی ) 18 ایک روز تو قریش نے رسول کریم پر مظالم کی حد کر دی۔آپ گھر سے باہر نکلے تو جو بھی ملا وہ آزاد تھا یا غلام اس نے آپ کی تکذیب کی اور ایذارسانی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔رسول اللہ مغموم ہو کر واپس لوٹے اور چادر اوڑھ کر لیٹ رہے تب حکم ہوا کہ اے چادر اوڑھے ہوئے اُٹھ اور لوگوں کو انذار کر۔(ابن ہشام )19 امر واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شدائد و آلام کا حال اصحاب رسول نے بہت کم بیان کیا، کیونکہ ایک طرف یہ مضمون سخت تکلیف دہ اور اذیت ناک تھا تو دوسری طرف ادب رسول کا بھی تقاضا تھا کہ یہ تذکرے عام نہ ہوں۔خود نبی کریم کمال صبر کا نمونہ دکھاتے ہوئے کبھی بھی از خودان شدائد وآلام کے قصے نہیں سناتے تھے۔گھر یلو ماحول میں کبھی بات ہو گئی تو حضرت عائشہ کو ایک دفعہ اتنا بتایا، میں ( مکہ میں ) دو بدترین ہمسایوں ابولہب اور عقبہ بن ابی معیط کے درمیان رہتا تھا یہ دونوں گو بر اُٹھا کے لاتے اور میرے دروازے پر پھینک دیتے حتی کہ اپنے گھروں کی غلاظت بھی میرے دروازے پر ڈال جاتے۔آپ باہر نکلتے تو صرف اتنا فرماتے اے عبد مناف کی اولاد! یہ کیسا حق ہمسائیگی تم ادا کرتے ہو؟“ پھر آپ اس گند کو خود راستہ سے ہٹا دیتے۔(حلبیہ ( 20