اسوہء انسانِ کامل — Page 348
348 رسول اللہ کا استقلال اور استقامت اسوہ انسان کامل ہمارے آقامہ کیسے کوہ وقار وہ انسان ہیں جن کو معاذ اللہ ،شاعر، دیوانہ، جادوگر اور کذاب کہہ کر ہر گندی گالی دی جاتی ہے ، مگر وہ نہ صرف یہ دشنام دہی برداشت کرتے ہیں بلکہ ان دشمنان دین کے لئے دعا گو ہیں کہ اے اللہ میری قوم کو بخش دے یہ جانتے نہیں۔( بخاری ) 1 شدائد وآلام کے اس زمانے میں اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی کو تلقین عبر، تائید و نصرت کی یقین دہانی اور حفاظت کے وعدے نہ ہوتے تو وہ مشکلات کے پہاڑ کیسے عبور ہوتے اللہ تعالیٰ آپ کو قدم قدم پر تسلی دیتا تھا۔کبھی استہزاء کرنے والوں کے بارہ میں یہ فرما کر کہ ہم خود اُن تمسخر کرنے والوں کے لئے کافی ہیں۔“ (سورۃ الحجر : 96) یعنی ان سے نپٹ لیں گے اور تجھے ان کے شر سے محفوظ رکھیں گے۔تو کبھی یہ کہ کر اطمینان دلایا جاتا کہ اللہ تعالیٰ تجھے ان کے حملوں سے محفوظ رکھے گا۔(سورۃ المائدة : 68) وہ استہزاء کرنے والے جب آپ کے پاک نام محمد کو (جس کے معنے ہیں تعریف کیا گیا ) بگاڑ کر مذمم (یعنی قابل مذمت ) کہا کرتے تو آپ فرماتے۔دیکھو اللہ تعالیٰ مجھے کس طرح ان کی گالیوں اور دشنام دہی سے بچا لیتا ہے۔یہ کسی ندم کو گالیاں دیتے ہیں جبکہ میرا نام خدا نے محمد رکھا ہے۔( بخاری )2 اولا داور اصحاب کی تکالیف پر استقامت کفار مکہ نے رسول اللہ علیہ کو اذیت دینے کے لئے جو مختلف طریق آزمائے وہ نہایت ظالمانہ ،شرمناک اور انسانیت سوز تھے۔مگر یہ تمام حربے رسول اللہ کے پائے ثبات میں کوئی لغزش پیدا نہ کر سکے۔ایک ہتھکنڈا دشمن نے یہ آزمانا چاہا کہ رسول اللہ کی بیٹیوں کو جن کے نکاح قریش میں ہو چکے تھے طلاق دلوائی جائے۔چنانچہ سب سے پہلے انہوں نے عتبہ بن ابو لہب کو اس پر آمادہ کیا۔جس نے رسول اللہ کی بیٹی حضرت رقیہ کو طلاق دے دی۔(ابن ہشام)3 ابولہب کے دوسرے بیٹے عتیبہ کا نکاح رسول اللہ کی بیٹی ام کلثوم سے ہوا تھا۔ابولہب نے اس پر بھی دباؤ ڈال کر طلاق دلوا دی۔(ابن سعد ) 4 رسول کریم کو آزادانہ نماز پڑھنے کی بھی آزادی نہ تھی۔چنانچہ نماز عصر کے وقت آپ مختلف گھاٹیوں میں جا کرا کیلے یا دو دو کی صورت میں چھپ کر نماز ادا کرتے۔(حاکم) 5 ان مظالم میں سردار مکہ ابو جہل پیش پیش تھا۔جو اپنی ریاست کے بل بوتے پر نومسلموں کو ذلیل ورسوا کرتا اور طرح طرح کی دھمکیاں دیتا۔اگر وہ نومسلم تاجر ہوتا تو اسے بائیکاٹ کی دھمکی دی جاتی اگر وہ بے چارہ کسی کمز ور قبیلہ سے ہوتا تو اسے مارتے پیٹتے۔(ابن ہشام ) 6 شروع میں تو حضرت ابوبکر ، طلحہ ، عثمان اور زبیر مصعب بن عمیر جیسے شرفاء بھی ان اذیتوں کا نشانہ بنے۔جن سے مشرکین مکہ بالآخر مایوس ہوئے۔مگر جو مظالم حضرت بلال، خاندان یا سر اور حضرت خباب پر توڑے گئے ان کو سن کر اور پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔حضرت بلال امیہ کے غلام تھے۔وہ انہیں کو تپتی ہوئی زمین پر پشت کے بل لٹا دیتا